خواجہ میر درد

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)

11 December 2025

12سپیکرز
245لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

آتش عشق جی جلاتی ہے

آتش عشق جی جلاتی ہے یہ بلا جان ہی پہ آتی ہے تو ہے اور سیر باغ ہے ہر وقت داغ ہیں اور میری چھاتی ہے شام بھی ہو چکی کہیں اب تو آ شتابی ایک رات جاتی ہے کچھ مناسب نہیں ہے کیا کہئے جی میں جو کچھ ایک اپنے آتی ہے ٹک خبر لے کہ ہر گھڑی ہم کیا اب جدائی بہت ستاتی ہے دردؔ اس کی بھی دید کر لیجئے نوجوانی یہ مفت جاتی ہے

— خواجہ میر درد