آتش عشق جی جلاتی ہے
آتش عشق جی جلاتی ہے
یہ بلا جان ہی پہ آتی ہے
تو ہے اور سیر باغ ہے ہر وقت
داغ ہیں اور میری چھاتی ہے
شام بھی ہو چکی کہیں اب تو
آ شتابی ایک رات جاتی ہے
کچھ مناسب نہیں ہے کیا کہئے
جی میں جو کچھ ایک اپنے آتی ہے
ٹک خبر لے کہ ہر گھڑی ہم کیا
اب جدائی بہت ستاتی ہے
دردؔ اس کی بھی دید کر لیجئے
نوجوانی یہ مفت جاتی ہے
خواجہ میر درد