پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھے
پھر مجھ سے روشناس کرایا گیا مجھے
میری صدا پہ کب مجھے آواز دی گئی
اک اجنبی صدا پہ پکارا گیا مجھے
میں گر چکا تھا اپنے ہی اوج نگاہ سے
دنیا کی جب نگاہ میں لایا گیا مجھے
لپٹی ہوئی کتاب تھا اک گرد پوش میں
لیکن ورق ورق کوئی پھیلا گیا مجھے
محسنؔ میں خوش تھا سوچ کے آئینہ گر ہوں میں
آئینہ جب تلک نہ دکھایا گیا مجھے
محسن زیدی
کون اس تیغ ستم گر سے بچا
جو بچا اپنے مقدر سے بچا
صاف انکار ہی بہتر ہے کہ میں
زحمت عرض مکرر سے بچا
لے نہ ڈوبیں مری موجیں مجھ کو
آ مجھے میرے سمندر سے بچا
جس کو آئینہ بنانا ہو تجھے
ایسے پتھر کو مرے سر سے بچا
راستے میں مجھے منزل نہ ملی
یہ بھی اچھا ہوا ٹھوکر سے بچا
آشیاں شاخ ہوا پر اس کا
میرے ٹوٹے ہوئے شہ پر سے بچا
محبس ذات سے باہر لے چل
مجھ کو اس گنبد بے در سے بچا
میں جو محسنؔ ہوا مجروح تو کیا
وہ بھی کب وقت کے خنجر سے بچا
محسن زیدی
یوں سمجھ لو کہ بجز نام خدا کچھ نہ رہا
جل کے اس آگ میں سب خاک ہوا کچھ نہ رہا
کس کا سر کس کی ردا کس کا مکاں ڈھونڈتے ہو
قتل و غارت میں تو کوئی نہ بچا کچھ نہ رہا
ہم کسی اور کے ہونے کی خبر کیا دیتے
گم ہوئے ایسے کہ اپنا بھی پتا کچھ نہ رہا
کچے رنگوں کی طرح اڑ گئے سارے ہی حروف
کورے کاغذ پہ تھا جو کچھ بھی لکھا کچھ نہ رہا
محسنؔ اس طرح لٹی محفل ساز و آواز
گل نغمہ نہ کوئی برگ نوا کچھ نہ رہا
محسن زیدی
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں
پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں
ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستا ہو جائیں
دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں
عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا
خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں
اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
احمد فراز
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے
یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے
خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے
اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے
اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے
آواز د کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے
ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی
تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے
سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز
وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے
احمد فراز
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے
بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں
پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے
پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں
کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیں
گھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں
داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔ
کچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں
احمد فراز