رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے
رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے
منزل تک اس عمل سے گزرنا ضرور ہے
جو سیڑھیاں لگا کے فلک پر پہنچ گئے
اک دن زمیں پہ ان کو اترنا ضرور ہے
تنکوں سے چاہے لوگ نشیمن بنا بھی لیں
تنکوں کو آندھیوں میں بکھرنا ضرور ہے
جی چاہتا تھا چلتے رہیں راستے کے ساتھ
منزل اب آ گئی تو ٹھہرنا ضرور ہے
کتنا ہی سطح آب انہیں روکتی رہے
موجوں کو اپنی تہ سے ابھرنا ضرور ہے
محسنؔ شکست و ریخت ہے تعمیر ہی کا رخ
بننا جسے ہے اس کو بکھرنا ضرور ہے
محسن زیدی