محسن زیدی

بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی

18 January 2026

17سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے

رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے منزل تک اس عمل سے گزرنا ضرور ہے جو سیڑھیاں لگا کے فلک پر پہنچ گئے اک دن زمیں پہ ان کو اترنا ضرور ہے تنکوں سے چاہے لوگ نشیمن بنا بھی لیں تنکوں کو آندھیوں میں بکھرنا ضرور ہے جی چاہتا تھا چلتے رہیں راستے کے ساتھ منزل اب آ گئی تو ٹھہرنا ضرور ہے کتنا ہی سطح آب انہیں روکتی رہے موجوں کو اپنی تہ سے ابھرنا ضرور ہے محسنؔ شکست و ریخت ہے تعمیر ہی کا رخ بننا جسے ہے اس کو بکھرنا ضرور ہے

— محسن زیدی