انعام اللہ خاں یقین

دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین

04 February 2026

18سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا

گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا نکالوں خاک سے جوں لالہ گر خونیں کفن اپنا لگے گا ہاتھ پتھر اس طرح کی سعیٔ ناحق سے پرائے دلبروں پر سر نہ چیر اے کوہ کن اپنا دیا بر باد راز عشق اس چاک گریباں سے نہ رکھا بوئے گل کی طرح میں نے ہاتھ من اپنا ہمارا جی نکل جاتا ہے جب یہ نوجواں ہم کو دکھاتے ہیں بھویں تیوری چڑھا کر بانکپن اپنا یقیںؔ اس کے در دنداں کی باتیں جو کیا چاہے صدف کی طرح دھوئے آب گوہر سے دہن اپنا

— انعام اللہ خاں یقین

ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے

ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے کر دیا ضعف سے جوں سایہ زمیں گیر مجھے تیری تدبیر سے میں کیونکہ مروں گا اے مرگ کی نہ ہو ہجر کے جب زہر نے تاثیر مجھے جس کو منظور ہے مرنا اسے جینا ہے وبال ہے دم پاک مسیحا دم شمشیر مجھے مجھ کو پیری میں کیا تازہ جوانوں کا مرید خوار کرتا ہے یہ نظارۂ بے پیر مجھے کم نہیں جوہر فولاد جواہر سے یقیںؔ ہے بہ از سلک گوہر عشق میں زنجیر مجھے

— انعام اللہ خاں یقین

اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا

اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا جس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھا دام و قفس سے چھوٹ کے پہنچے جو باغ تک دیکھا تو اس زمیں میں چمن کا نشاں نہ تھا یہ قمریاں جو سرو کی عاشق ہوئیں مگر دنیا میں اور کوئی سجیلا جواں نہ تھا کیوں کر ملی ہو گل سے جو آتی ہو خوش دماغ اے بلبلوں چمن میں مگر باغباں نہ تھا لاچار لے دل اپنا گیا گور میں یقیںؔ اس جنس کا جہاں میں کوئی قدرداں نہ تھا

— انعام اللہ خاں یقین