سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا
گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا نکالوں خاک سے جوں لالہ گر خونیں کفن اپنا لگے گا ہاتھ پتھر اس طرح کی سعیٔ ناحق سے پرائے دلبروں پر سر نہ چیر اے کوہ کن اپنا دیا بر باد راز عشق اس چاک گریباں سے نہ رکھا بوئے گل کی طرح میں نے ہاتھ من اپنا ہمارا جی نکل جاتا ہے جب یہ نوجواں ہم کو دکھاتے ہیں بھویں تیوری چڑھا کر بانکپن اپنا یقیںؔ اس کے در دنداں کی باتیں جو کیا چاہے صدف کی طرح دھوئے آب گوہر سے دہن اپنا
ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے
ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے کر دیا ضعف سے جوں سایہ زمیں گیر مجھے تیری تدبیر سے میں کیونکہ مروں گا اے مرگ کی نہ ہو ہجر کے جب زہر نے تاثیر مجھے جس کو منظور ہے مرنا اسے جینا ہے وبال ہے دم پاک مسیحا دم شمشیر مجھے مجھ کو پیری میں کیا تازہ جوانوں کا مرید خوار کرتا ہے یہ نظارۂ بے پیر مجھے کم نہیں جوہر فولاد جواہر سے یقیںؔ ہے بہ از سلک گوہر عشق میں زنجیر مجھے
اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا
اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا جس دن کہ یہ بہار نہ تھی گلستاں نہ تھا دام و قفس سے چھوٹ کے پہنچے جو باغ تک دیکھا تو اس زمیں میں چمن کا نشاں نہ تھا یہ قمریاں جو سرو کی عاشق ہوئیں مگر دنیا میں اور کوئی سجیلا جواں نہ تھا کیوں کر ملی ہو گل سے جو آتی ہو خوش دماغ اے بلبلوں چمن میں مگر باغباں نہ تھا لاچار لے دل اپنا گیا گور میں یقیںؔ اس جنس کا جہاں میں کوئی قدرداں نہ تھا