گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا
گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا
نکالوں خاک سے جوں لالہ گر خونیں کفن اپنا
لگے گا ہاتھ پتھر اس طرح کی سعیٔ ناحق سے
پرائے دلبروں پر سر نہ چیر اے کوہ کن اپنا
دیا بر باد راز عشق اس چاک گریباں سے
نہ رکھا بوئے گل کی طرح میں نے ہاتھ من اپنا
ہمارا جی نکل جاتا ہے جب یہ نوجواں ہم کو
دکھاتے ہیں بھویں تیوری چڑھا کر بانکپن اپنا
یقیںؔ اس کے در دنداں کی باتیں جو کیا چاہے
صدف کی طرح دھوئے آب گوہر سے دہن اپنا
انعام اللہ خاں یقین