جگر مراد آبادی

دل کہ تھا جان زیست آہ جگر، اسی خانہ خراب نے مارا (جگر مرادآبادی)

02 November 2025

26سپیکرز
572لسنرز

سپیکرز

جگر مراد آبادی کا تعارف

<p>جگر مرادآبادی اردو کے ممتاز کلاسیکی غزل نگار اور صوفی شاعر تھے، جن کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر مرادآبادی تھا۔ ان کی پیدائش چھ اپریل انیس سو نوے کو مرادآباد، اتر پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے عربی، فارسی اور اردو کا مطالعہ کیا اور مختلف شہروں میں قیام کے دوران اپنی ادبی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ بچپن سے ہی ادبی ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان کا شعری ذوق تیز ہوا اور وہ جلد ہی اردو شاعری کے معروف چہروں میں شمار ہونے لگے۔</p><p>جگر مرادآبادی کی شاعری کلاسیکی غزل کے اسلوب میں ہے اور ان کے شعری مجموعوں میں داغِ جگر، شعلۂ طور اور آتِشِ گل شامل ہیں، جنہوں نے اردو ادب میں ان کا مقام مستحکم کیا۔ ان کی شاعری میں رومانیت، غم، مے نوشی اور روحانی کشمکش کی جھلک نمایاں ہے، جو قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۱۹۵۸ میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ (D.Litt) بھی عطا کیا گیا۔</p><p>جگر مرادآبادی نو ستمبر انیس سو ساٹھ کو گونڈا، اتر پردیش میں وفات پا گئے۔ ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ صوفی سلسلوں کے قریب رہے اور ان کی شاعری میں روحانی اور فکری گہرائی اسی تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کی تخلیقات آج بھی اردو ادب میں محبت، جذبات اور انسانی تجربات کی عکاسی کے طور پر زندہ ہیں اور نئے شعرا اور ادب دوست ان سے متاثر ہوتے ہیں۔</p>
مکمل تعارف اور کلام دیکھیں