دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکن زلف عنبریں کیوں ہے
نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
مرزا غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
مرزا غالب
پہنچ سے دُور چمکتا سراب یعنی تُو
مجھے دکھایا گیا ایک خواب یعنی تُو
مَیں جانتا ھوں ببُول اور گلاب کے معنی
ببُول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تُو
جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا ، سو مجھے
عطا ھوا ھے مکمل نصاب یعنی تُو
کہاں یہ ذرّہء تاریک بخت یعنی مَیں
کہاں وہ نُور بھرا ماھتاب یعنی تُو
بدل گئی ھے بہت مملکت مرے دِل کی
کہ آگیا ھے یہاں انقلاب یعنی تُو
ھر اِک غزل کو سمجھنے کا وقت ھے نہ دماغ
مجھے بہت ھے فقط انتخاب یعنی تُو
کبھی تو میرے اندھیروں کو روشنی دے گا
گریز کرتا ھوا ماھتاب یعنی تُو
اِدھر ھے کوہ کنِ دشتِ عشق یعنی مَیں
اُدھر ھے حُسنِ نزاکت مآب یعنی تُو
اُجاڑ گُلشنِ دل کو بڑی دعاوں کے بعد
ھوا نصیب گُلِ باریاب یعنی تُو
بہت طویل سہی داستانِ دل ، لیکن
بس ایک شخص ھے لُبِّ لباب یعنی تُو
کبھی کبھی نظر آتا ھے دشتِ ھجراں میں
جنُوں کی پیاس بڑھاتا سراب یعنی تُو
چکھے بغیر ھی جس کا نشہ مُسلسل ھے
مجھے بہم ھے اِک ایسی شراب یعنی تُو
کوئی سوال ھے جس کو جواب مِلتا نہیں
سوال یعنی کہ فارس ، جواب یعنی تُو
رحمان فارس