اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
مجھ کو انسان سے اوتار کیا
دشت غربت میں دل ویراں نے
یاد جمنا کو کئی بار کیا
پیار کی بات نہ پوچھو یارو
ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا
کتنی خوابیدہ تمناؤں کو
اس کی آواز نے بیدار کیا
ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ
ہم نے کعبے میں بھی اقرار کیا
حبیب جالب
اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں
وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا
جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں
کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں
قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو
چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں
یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں
کہ اقتدار رہے اُن کے جانشینوں میں
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں
حبیب جالب
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں
وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالبؔ جالبؔ کہتے ہیں
حبیب جالب
ذرے ہی سہی کوہ سے ٹکرا تو گئے ہم
دل لے کے سر عرصۂ غم آ تو گئے ہم
اب نام رہے یا نہ رہے عشق میں اپنا
روداد وفا دار پہ دہرا تو گئے ہم
کہتے تھے جو اب کوئی نہیں جاں سے گزرتا
لو جاں سے گزر کر انہیں جھٹلا تو گئے ہم
جاں اپنی گنوا کر کبھی گھر اپنا جلا کر
دل ان کا ہر اک طور سے بہلا تو گئے ہم
کچھ اور ہی عالم تھا پس چہرۂ یاراں
رہتا جو یونہی راز اسے پا تو گئے ہم
اب سوچ رہے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے
پھر ان سے نہ ملنے کی قسم کھا تو گئے ہم
اٹھیں کہ نہ اٹھیں یہ رضا ان کی ہے جالبؔ
لوگوں کو سر دار نظر آ تو گئے ہم
حبیب جالب
بہت میں نے سنی ہے آپ کی تقریر مولانا
مگر بدلی نہیں اب تک مری تقدیر مولانا
خدارا شکر کی تلقین اپنے پاس ہی رکھیں
یہ لگتی ہے مرے سینے پہ بن کر تیر مولانا
نہیں میں بول سکتا جھوٹ اس درجہ ڈھٹائی سے
یہی ہے جرم میرا اور یہی تقصیر مولانا
حقیقت کیا ہے یہ تو آپ جانیں یا خدا جانے
سنا ہے جمی کارٹر آپ کا ہے پیر مولانا
زمینیں ہوں وڈیروں کی مشینیں ہوں لٹیروں کی
خدا نے لکھ کے دی ہے یہ تمہیں تحریر مولانا
کروڑوں کیوں نہیں مل کر فلسطیں کے لیے لڑتے
دعا ہی سے فقط کٹتی نہیں زنجیر مولانا
حبیب جالب
زنداناں دے در نہیں کُھلدے ہنجُواں ہاواں نال
سجناں ایہہ تاں کھلن گے لوہے دیاں باہواں نال
ویکھ زمانہ گل کردا اے اج ہوَاوَاں نال
منزل تیرے ہتھ نہیں آؤنی صرف دعاواں نال
نہ بھل سکیاواں نہ بھل سکداواں بیاس دے کنڈھیاں نوں
سدا روےگی یاد ایہناں دی میریاں ساہواں نال
اکو رخ ہوا وچ وسیا، کوئی نہ دِسیا فیر
ساڈا راہ بدل سکدا اے کون ادَاوَاں نال
خوف دا سایہ ذہن اپنے دے آؤن نہ دِتا کول
دھن جگرا ساڈا وی جالب رہے بلاواں نال
حبیب جالب