عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
تمہارے نام اپنی زندگی کی کتاب کا انتساب لکھوں
وہ لمحہ کتنا عجیب تھا جب ہماری آنکھیں گلے ملی تھیں
میں کس طرح اب محبتوں کی شکستگی کے عذاب لکھوں
تمہی نے میرے اجاڑ رستوں پہ خواہشوں کے دیے جلائے
تمہی نے چاہا تھا خشک ہونٹوں سے چاہتوں کے گلاب لکھوں
کبھی وہ دن تھے کہ نیند آنکھوں کی سرحدوں سے پرے پرے تھی
مگر میں اب جب بھی سونا چاہوں تمہاری یادوں کے خواب لکھوں
میں تنہا لڑکی دیار شب میں جلاؤں سچ کے دیئے کہاں تک
سیاہ کاروں کی سلطنت میں میں کس طرح آفتاب لکھوں
قیادتوں کے جنوں میں جن کے قدم لہو سے رنگے ہوئے ہیں
یہ میرے بس میں نہیں ہے لوگو کہ ان کو عزت مآب لکھوں
یہی بہت ہے کہ ان لبوں کو صدا سے محروم کر کے رکھ دوں
مگر یہ کیسی مصالحت ہے سمندروں کو سراب لکھوں
نوشی گیلانی
بچھڑتے لمحوں میں
اس نے مجھ سے کہا تھا دیکھو
''ہماری راہیں جدا جدا ہیں
مگر ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے زندگی بھر
کسی بھی لمحہ اداسیوں کی
فصیل حائل نہ ہونے دینا
ہوا کے ہاتھوں پہ لکھتے رہنا
جدائیوں کے تمام قصے
قدم قدم پر جو پیش آئیں
وہ سانحے بھی نظر میں رکھنا
میں جب بھی لوٹا تو اپنے ہونٹوں کی تازگی کو
تمہاری بجھتی ہوئی ان آنکھوں میں لا رکھوں گا
جو میری اپنی ہیں صرف میری''
بچھڑتے لمحوں میں اس نے مجھ سے نہ جانے کیا کچھ کہا سنا تھا
اور اب
اسے بھی یہی کہے گا
وہ جس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے
نئے سفر پر نکل پڑا ہے
نوشی گیلانی
دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
یہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہوا
اپنے خلاف شہر کے اندھے ہجوم میں
دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا
طول شب فراق تری خیر ہو کہ دل
آمادۂ وصال تجھے دیکھ کر ہوا
یہ ہم ہی جانتے ہیں جدائی کے موڑ پر
اس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہوا
آئی نہ تھی کبھی مرے لفظوں میں روشنی
اور مجھ سے یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا
بچھڑے تو جیسے ذہن معطل سا ہو گیا
شہر سخن بحال تجھے دیکھ کر ہوا
پھر لوگ آ گئے مرا ماضی کریدنے
پھر مجھ سے اک سوال تجھے دیکھ کر ہوا
نوشی گیلانی
بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ....
کہ کتنی شامیں اداس آنکھوں میں کاٹنی ہیں...؟؟
کہ کتنی صبحیں اکیلے پن میں گزارنی ہیں...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ کتنے سورج عذاب رستوں کو دیکھنا ہے...؟؟
کہ کتنے مہتاب سرد راتوں کی وسعتوں سے نکالنے ہیں...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ چاند راتوں میں وقت کیسے گزارنا ہے...؟؟
خاموش لمحوں میں تجھ کو کتنا پکارنا ہے...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ کتنے لمحے شمار کرنے ہیں ہجرتوں کے...؟؟
کہ کتنے موسم اک ایک کرکے جدائیوں میں گزارنے ہیں...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ پنچھیوں نے اکیلے پن کا سبب جو پوچھا تو کیا کہوں گا...؟؟
کسی نے رستے میں روک کر یہ مجھ سے پوچھا.......کہ پچھلے موسم میں سائے سائے جو اجنبی تھا کہاں گیا ہے...؟؟
تو کیا کہوں گا...؟؟
بتا کے جاؤ....
میں کس سے تیرا گلا کروں گا...؟؟
بچھڑ کے تجھ سے حبیب کس سے ملا کروں گا...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ آنکھ برسی تو کون موتی چنا کرے گا...؟؟
اداس لمحوں میں دل کی دھڑکن سنا کرے گا...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ موسموں کو پیام دینے ہیں....یا نہیں...؟؟
فلک کو، تاروں کو، جگنوؤں کو سلام دینے ہیں....یا نہیں...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ کس پہ ہے اعتبار کرنا...؟؟
تو کس کی باتوں پہ بےنیازی کے سلسلے اختیار کرنا...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ اب رویوں کی چال کیا ہو...؟؟
جواب کیا ہو...؟؟
سوال کیا ہو...؟؟
عروج کیا ہو...؟؟
زوال کیا ہو...؟؟
نگاہ، رخسار، زلف، چہرہ نڈھال کیا ہو...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ میری حالت پہ چاندنی کھلکھلا پڑی تو میں کیا کروں گا...؟؟
کہ میری صورت پہ تیرگی مسکرا پڑی تو میں کیا کروں گا...؟؟
بتا کے جاؤ....
کہ تم کو کتنا پکارنا ہے...؟؟
بچھڑ کے تجھ سے یہ وقت کیسے گزارنا ہے...؟؟
اجاڑنا ہے...؟؟
نکھارنا ہے...؟؟
بدن کو کتنا سنوارنا ہے...؟؟
بتا کے جاؤ....
بتا کے جاؤ....
بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ....
بتا کے جاؤ....
بتا کے جاؤ....
نا معلوم