پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
وہ جس کی یاد سے دل کو کنارا ہی نہیں ہے
محّبت کھیل ایسا تو نہیں ہم لَوٹ جائیں
کہ اِس میں جیت بھی ہو گی خسارا ہی نہیں ہے
کبھی وہ جگنوؤں کو مُٹھیوں میں قید کرنا
مگر اب تو ہمیں یہ سب گوارا ہی نہیں ہے
اب اس کے خال و خد کا ذکر کیا کرتے کِسی سے
کہ ہم پر آج تک وہ آشکارا ہی نہیں ہے
یہ خواہش تھی کہ ہم کُچھ دُور تک تو ساتھ چلتے
ستاروں کا مگر کوئی اِشارا ہی نہیں ہے
بہت سے زخم کھانے دل نے آخر طے کیا ہے
تمھارے شہر میں اپنا گزارا ہی نہیں ہے
نوشی گیلانی
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
اب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے
سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے
شجر کو کم سایہ دار لکھ دے
ہوا کو لکھنا سکھانے والوں
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔!!!
نوشی گیلانی
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
جب چلے تو جنگلوں میں راستہ بنتا گیا
تہمتیں تو خیر قسمت تھیں مگر اس ہجر میں
پہلے آنکھیں بجھ گیئں اور اب چہرہ گیا
ہم وہ محرومِ سفر ہیں دشتِ خواہش میں جنہیں
اک حصارِ درو دیوار میں رکھا گیا
بر ملا سچ کی جہاں تلقین کی جاتی رہی
پھر وہاں جو لوگ سچے تھے انہیں روکا گیا
ہم وہ بے منزل مسافر ہیں جنہیں ہر حال میں
ہم سفر رکھا گیا اور بے نوا رکھا گیا
کھا گیا شوقِ زورِ بزم آرائی اسے
صاحبِ فہم و فراست تھا مگر تنہا گیا
نوشی گیلانی
یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا
غرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا
یہ برف موسم جو شہر جاں میں کچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو
لہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا
تم اپنی سانسوں سے میری سانسیں الگ تو کرنے لگے ہو لیکن
جو کام آساں سمجھ رہے ہو وہ کام ممکن نہیں رہے گا
وفا کا کاغذ تو بھیگ جائے گا بد گمانی کی بارشوں میں
خطوں کی باتیں تو خواب ہوں گی پیام ممکن نہیں رہے گا
یہ ہم محبت میں لا تعلق سے ہو رہے ہیں تو دیکھ لینا
دعائیں تو خیر کون دے گا سلام ممکن نہیں رہے گا
نوشی گیلانی
بھولتا کون ہے
وقت کے گھاؤ کو
ہجر کے تندطوفان کی بے یقین لہر میں
وصل کے خواب کی ڈوبتی ناؤ کو
بھولتا کون ہے
بھولتا کون ہے
اپنے قاتل کے خدوخال کو
دُکھ اُٹھاتے دنوں اور ماہ وسال کو
بھولتا کون ہے
بھولتا کون ہے
عمر کی شاخ پر کھلنے والی اس اک اوّلین شام کو
بے سبب جو لگا ہے اِس الزام کو
پھر تِرے نام کو
بھولتا کون ہے ۔۔!
نوشی گیلانی
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا
جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوح وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبارتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئی ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا
نوشی گیلانی
مجھ کو رسوا سر محفل تو نہ کروایا کرے
کاش آنسو مری آنکھوں میں ہی رہ جایا کرے
اے ہوا میں، میں تو بس اس کا پتہ پوچھا تھا
اب کہانی تو نہ ہر بار کی بن جایا کرے
بس بہت دیکھ لیے خواب سہانے دن کے
اب وہ باتوں کی رفاقت سے نہ بہلایا کرے
اک مصیبت تو نہیں ٹوٹی سو اب اس دل سے
جس قیامت نے گزرنا ہے گزر جایا کرے
جس کے خوابوں کو میں آنکھوں میں سجا کر رکھوں
اس کی خوشبو کبھی مجھ کو بھی تو مہکایا کرے
نوشی گیلانی
دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے
نوشی گیلانی