ہر اک نے کہا : کیُوں تجھے آرام نہ آیا
سُنتے رہے ہم ، لب پہ ترا نام نہ آیا
دیوانے کو تکتی ہیں ترے شہر کی گلیاں
نِکلا ، تو اِدھر لَوٹ کے بدنام نہ آیا
مت پُوچھ کہ ہم ضبط کی کِس راہ سے گُزرے
یہ دیکھ کہ تُجھ پر کوئی اِلزام نہ آیا
کیا جانئیے کیا بیت گئی دِن کے سفر میں
وُہ مُنتظَر ِ شام سر ِ شام نہ آیا
یہ تِشنگیاں کل بھی تھیں اور آج بھی ، زیدی
اُس ہونٹ کا سایہ بھی مرے کام نہ آیا
مصطفی زیدی
تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں
کس کا غم، کہاں کا غم، سب فضول باتیں ہیں
اے خلوص میں تجھ کو کس طرح بچاؤں گا
دشمنوں کی چالیں ہیں، ساتھیوں کی گھاتیں ہیں
تم پہ ہی نہیں موقوف، آج کل تو دنیا میں
زیست کے بھی مذہب ہیں، موت کی بھی ذاتیں ہیں
مصطفی زیدی
کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
کبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پر
رواج نقش قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہمیں بھی بادہ گساری سے عار تھی لیکن
شراب ظرف سے کم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
تباہ ہونے کا ارماں سہی محبت میں
کسی کو خوئے ستم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہمارے شعر میں روٹی کا ذکر بھی ہوگا
کسی کسی کے شکم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
مصطفی زیدی
ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
سَر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں
تم سے تو ایک دل کی کلی بھی نہ کِھل سکی
یہ بھی بلا کشان ِ محبت کے کام ہیں
دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیار
اِس سر زمیں کے لوگ بہت بدکلام ہیں
تھوڑی سی دیر صبر کہ اِس عرصہ گاہ میں
اے سوز ِ عشق ، ہم کو ابھی اور کام ہیں
تم بھی خُدا سے سوزِ جنوں کی دُعا کرو
ہم پر تو اِن بزرگ کے احسان عام ہیں
وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا
اور جس پہ اتفاق سے آنسُو حرام ہیں
اپنے پہ آ پڑیں تو نئے پن کی حَد نہیں
جو واقعات سب کی حکایت میں عام ہیں
مُنعم کا تو خُدا بھی اَمیں ، بُت بھی پاسباں
مُفلس کے صرف تیغ علیہ السّلام ہیں
مصطفی زیدی
لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا
گریہ زندگی سے عاری ہے
پھر بھی یہ نا مراد جذبہ دل
عقل کے فلسفوں پہ بھاری ہے
آپ کو اپنی بات کیا سمجھاوں
روز تجھے ہیں حوصلوں کے کنول
روز کی الجھنوں سے ٹکرا کر!
ٹوٹ جاتے ہیں دل کے شیش محل
لیکن آپس کی تیز باتوں پر
سوچتے ہیں خفا نہیں ہوتے
آپ کی صنف میں بھی ہے یہ بات
مرد ہی بے وفا نہیں ہوتے
مصطفی زیدی
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
میرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرح
پھول جاگے ہیں کہیں تیرے بدن کی مانند
اوس مہکی ہے کہیں تیرے پسینے کی طرح
اے مجھے چھوڑ کے طوفان میں جانے والی
دوست ہوتا ہے تلاطم میں سفینے کی طرح
اے مرے غم کو زمانے سے بتانے والی
میں ترا راز چھپاتا ہوں دفینے کی طرح
تیرا وعدہ تھا کہ اس ماہ ضرور آئے گی
اب تو ہر روز گزرتا ہے مہینے کی طرح
مصطفی زیدی
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
غم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
کسی زلف کو صدا دو کسی آنکھ کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
مصطفی زیدی
میں سوچتا تھا کہ بڑھتے ہوئے اندھیروں میں
افق کی موج پہ ابھرا ہوا ہلال ہو تم
تصورات میں تم نے کنول جلائے ہیں
وفا کاروپ ہو احساس کا جمال ہو تم
کسی کا خواب میں نکھرا ہؤا تبسم ہو
کسی کا پیار سے آیا ہوا خیال ہو تم
مگر یہ آج زمانے نے کر دیا ثابت
معاشیات کا سیدھا سا اک سوال ہو تم
مصطفی زیدی
یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
آج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے
دوستو گلے مل لو ، ساتھیوں کی محفل میں دو گھڑی کو مل بیٹھو
اس خلوص کی شاید میرے بعد دنیا میں آبرو نہ رہ جائے
صبح و شام کی الجھن ، رات دن کے ہنگامے روز روز کا جھگڑا
دیکھ پیر میخانہ آج میں نہ رہ جاؤں یا سبو نہ رہ جائے
اپنا غم نہ اس کا اس کا غم ڈوبتی ہوئی لَو کو فکر ہے تو اس کی ہے
دربدر نہ رسوا ہو حسرتوں کا افسانہ کو بہ کو نہ رہ جائے
مصطفی زیدی