رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں
اپنا ہی جب دل دھڑکا تو ہم سمجھے وہ آئے ہیں
بند جھروکے سُونی گلیاں ، یا پھر غم کے سائے ہیں
چاند ستارے نکلے ہیں لیکن میرے لیے کیا لائے ہیں
جس دن سے تم بچھڑ گئے یہ حال ہے اپنی آنکھوں کا
جیسے دو بادل ساون کے آپس میں ٹکرائے ہیں
یہ تو راہ نہ بھولو گے تم اب تو ہم سے آن ملو
دیکھو ہم نے پلک پلک پر سو سو دیپ جلائے ہیں
ہائے قتیل اس تنہائی میں کیا سوجھی ہے موسم کو
جس دن سے وہ پاس نہیں اس دن سے بادل چھائے ہیں
قتیل شفائی
دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملے
سوچ کر بھی جنہیں ثواب ملے
اس طرح وہ ملا ھے یادوں میں
جیسے کھوئی ہوئی کتاب ملے
اس نے رکھا ہی تھا چمن میں قدم
منہ چھپاتے ہوئے گلاب مِلے
جرات عرض کر تو بیٹھے ہیں
جانے اب کیا ہمیں جواب ملے
کس کا چہرہ قتیل پڑھتے ہم
لوگ اوڑھے ہوئے نقاب ملے.
قتیل شفائی
اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے
صدیاں گزریں ، آسماں کا رنگ ابھی تک نیلا ہے
میں ہوں اپنے پیار پہ قائم اُن کی رسمیں وہ جانیں
اور ہے ذات حسینوں کی اور میرا اور قبیلہ ہے
میرے اُس کے ہونٹ ہلیں تو کھِلیں ہزاروں پھول مگر
کچھ تو میں چُپ رہتا ہوں، کچھ یار مرا شرمیلا ہے
آنسو ٹپکے ہوں گے اِن پر حرف جبھی تو پھیل گئے
رویا ہے خط لکھنے والا، جبھی تو کاغذ گیلا ہے
میں نے کہا دو اجنبیوں کے دل کیسے مِل جاتے ہیں
پیار سے بولی اِک دیوی یہ سب بھگوان کی لِیلا ہے
یوں ہی تو نہیں کہتا رہتانظمیں، غزلیں، گیت قتیلؔ
یہ تو کسی کی محفل تک جانے کا ایک وسیلہ ہے
قتیل شفائی
اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
شعلہ سا بدن اس کا دہکتا ہی چلا جائے
کردار ادا جب میں کروں بادِ صبا کا
وہ پھول کی مانند مہکتا ہی چلا جائے
حالات کی بجلی نے کیا راکھ نشیمن
پر آس کا پنچھی کہ چہکتا ہی چلا جائے
آ جائیں میسر جسے آنکھوں کے وہ ساغر
وہ رِند تو پی پی کے بہکتا ہی چلا جائے
پھولوں کو توقع ہے نہ امکان ثمر کا
اِک پیڑ مگر پھر بھی لہکتا ہی چلا جائے
ہم لاکھ مہذب ہوں، مگر تم ہی بتاؤ
جب ضبط کا پیمانہ چھلکتا ہی چلا جائے
ہر گام پہ الزام قتیلؔ اب بھی ہیں، لیکن
اُن پانو میں بِچھوا جو چھنکتا ہی چلا جائے
قتیل شفائی
یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے
یا پھر چاند ستاروں کو نابینا کر دے
ختم ھوُا جاتا ھے سارا حُسن غزل کا
آنکھوں کو ساغر جسموں کو مِینا کر دے
جس پیشانی پر سوُرج نے دیا ھے بوسہ
اُس پیشانی کا گُل رنگ پسینہ کر دے
ھِجر کا غم وہ جادوُگر ھے پریِت نگر کا
جو دن کو پھیلائے اور مہینہ کر دے
برسیں پھوُل تو دُنیا حق جتلائے اپنا
تِیر چلیں تو آگے میرا سینہ کر دے
باتیں بہت قتیل مگر اِس ڈر سے چُپ ھوُں
یہ واعظ دُشوار نہ میرا جینا کر دے
قتیل شفائی