اردو کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار قتیل شفائی، جن کا اصل نام محمد اورنگ زیب تھا، 24 دسمبر 1919ء کو ہری پور، ہزارہ (برٹش انڈیا، موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور سے حاصل کی، مگر والد کے انتقال کے باعث اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے۔ نوجوانی ہی میں ادب سے ان کی وابستگی گہری ہوگئی اور 1938ء میں انہوں نے اپنا ادبی تخلص “قتیل شفائی” اختیار کیا، جس میں "شفائی" اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شفا کے احترام میں شامل کیا۔ یہی وابستگی ان کے ادبی سفر کا بنیاد بنی جس نے بعد میں انہیں اردو دنیا کی ایک معتبر آواز بنا دیا۔
قتیل شفائی نے 1940 کی دہائی میں لاہور کا رخ کیا اور ادبی مجلہ "ادبِ لطیف" میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کام کیا۔ ان کی پہلی غزل لاہور کے ہفت روزہ سٹارمیں شائع ہوئی، جس کے بعد ان کا ادبی سفر تیزی سے آگے بڑھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور بطور نغمہ نگار 2500 سے زائد فلمی گیت تخلیق کیے، جن میں سے متعدد گیت پاکستانی اور بھارتی فلمی صنعت میں بے حد مقبول ہوئے۔ شاعری کے میدان میں بھی انہوں نے اہم خدمات انجام دیں اور بیس سے زیادہ شعری مجموعے شائع کیے، جنہوں نے انہیں معاصر اردو شاعری کا نمایاں نام بنا دیا۔ ان کی تخلیقات جذبے، رومانیت اور انسانی احساسات کا نہایت مؤثر اظہار پیش کرتی ہیں۔
قتیل شفائی کی خدمات کا اعتراف ریاستی سطح پر بھی کیا گیا، اور 1994ء میں انہیں حکومتِ پاکستان نے Pride of Performance سے نوازا۔ ان کی شہرت سرحدوں سے پار پہنچی اور ان کے کئی نغمے اور غزلیں مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں۔ انہوں نے ہندکو زبان کی تاریخ کی پہلی فلم "قصہ خوانی" بھی پروڈیوس کی، جو ایک نسبتاً کم معروف مگر مصدقہ حقیقت ہے اور ان کے تخلیقی دائرہ کار کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ قتیل شفائی 11 جولائی 2001ء کو لاہور میں انتقال کر گئے، مگر ان کا ادبی ورثہ آج بھی زندہ ہے اور ان کی غزلیں، نظمیں اور نغمات آج بھی اردو ادب کے حسن اور تخلیقی روایت کا روشن حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔