عدیم ہاشمی اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار تھے جن کا اصل نام فصیح الدین تھا اور وہ یکم اگست 1946ء کو فیروز پور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور لاہور کو اپنی ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ عدیم ہاشمی کا شمار جدید اردو غزل کے ان شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کلاسیکی روایت کو عصری حسیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کی شاعری انسانی جذبات، محبت، جدائی، تنہائی اور سماجی شعور کی گہری ترجمان ہے، جس نے انہیں اہلِ ادب اور عام قارئین دونوں میں یکساں مقبولیت عطا کی۔
عدیم ہاشمی نے غزل، نظم اور دیگر شعری اصناف میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والا ہے، جس کی ایک نمایاں مثال ان کا مشہور شعر “فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا” ہے جو آج اردو شاعری کی شناخت بن چکا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں ترکش، مکالمہ، چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے، فاصلے ایسے بھی ہوں گے اور بہت نزدیک آتے جا رہے ہو شامل ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے بھی نمایاں کام کیا، جن میں پی ٹی وی کے ڈرامے آغوش اور مقبول مزاحیہ سیریز گیسٹ ہاؤس خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جو ان کی تخلیقی وسعت اور فنی مہارت کا ثبوت ہیں۔
عدیم ہاشمی ایک حساس اور باخبر فنکار تھے جنہوں نے اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی جرات مندانہ اظہار کیا، حتیٰ کہ بعض اوقات انہیں مخالفت اور جلاوطنی جیسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ طویل عرصہ دل کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد وہ 5 نومبر 2001ء کو شکاگو، امریکہ میں دل کی سرجری کے دوران انتقال کر گئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ عدیم ہاشمی کا ادبی ورثہ آج بھی اردو ادب میں ایک قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے، اور ان کا کلام نئی نسل کے شاعروں اور قارئین کے لیے مسلسل رہنمائی کا ذریعہ ہے