ِ
باصر سلطان کاظمی اردو کے ممتاز اور معتبر شاعر، ڈرامہ نگار اور ادیب ہیں، جنہیں برطانوی-پاکستانی ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ معروف اردو شاعر ناصر کاظمی کے فرزند ہیں اور اسی عظیم ادبی روایت کے امین و وارث سمجھے جاتے ہیں۔ باصر سلطان کاظمی کی پیدائش 4 اگست1953 کو پاکستان میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب کی تعلیم پائی، جہاں وہ کالج کے معروف ادبی جریدے “راوی” کے مدیر بھی رہے۔ ادبی ذوق، مطالعہ اور تخلیقی شعور انہیں وراثت میں ملا، جسے انہوں نے اپنی محنت اور انفرادیت سے ایک نئی جہت عطا کی۔
سن 1990ء میں باصر سلطان کاظمی برطانیہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مانچسٹر سے M.Ed (1991)، PGCE (1995) اور M.Phil (2000) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اسی دوران انہوں نے BBC Asian Programme (1990–1991) میں بطور نیوز ایڈیٹر اور نیوز ریڈر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں North West Arts Board سے بطور ادبی مشیر وابستہ رہے۔ انہوں نے برطانیہ کے مختلف اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں اردو شاعری اور ڈرامے کی ورکشاپس منعقد کیں، جبکہ ان کے تحریر کردہ ڈرامے شمالی انگلینڈ کے مختلف تھیٹرز میں اسٹیج بھی کیے گئے۔
ادبی اعتبار سے باصر سلطان کاظمی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں، تاہم نظم اور ڈرامہ بھی ان کے تخلیقی دائرے میں شامل ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں “موجِ خیال” (1997)، “چمن کوئی بھی ہو” (2008)، “ہوائے طرب” (2015) اور “چونسٹھ خانے، چونسٹھ نظمیں” (2015) نمایاں ہیں۔ انہوں نے طویل ڈرامہ “بساط” (1987) تحریر کیا، جس کا انگریزی ترجمہ “The Chess Board” کے عنوان سے 1997ء میں شائع ہوا۔ ان کے کلام کے تراجم مختلف بین الاقوامی جرائد اور مجموعوں میں شامل ہو چکے ہیں، حتیٰ کہ ان کا ایک شعر McKenzie Square, Slough (UK) میں پتھر پر کندہ بھی کیا گیا ہے۔ والد ناصر کاظمی کی زندگی اور شاعری پر ان کا تحقیقی و تنقیدی کام بھی نہایت اہم ہے۔ ادب میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 2013ء میں انہیں برطانیہ کا اعلیٰ اعزاز MBE (Member of the Order of the British Empire) عطا کیا گیا۔ یوں باصر سلطان کاظمی اردو ادب میں روایت اور جدید حسیت کے حسین امتزاج کے نمائندہ شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔