سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ کیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ ادھر بھی آئی تھی موج بہار ایک منٹ پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ ابد تلک ہوئے ہم اس کے وسوسوں کے اسیر کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ پھر آج کام سے تاخیر ہو گئی باصرؔ کسی نے ہم سے کہا بار بار ایک منٹ
کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف شاطر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب پیش نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں انہوں نے پستیاں ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہ زوال مختلف تو نے کہی سنی سنائی مجھ سے سنی سنائی سن چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف ایسی چلی دم سحر شام تلک کیا نہال باد صبا سے تھی بہت موج خیال مختلف
ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی ذرا ملال نہ ہو تو نہ گر کہے کچھ بھی وہ اور وقت تھے جب انتخاب ممکن تھا کریں گے اہل ہنر کام اب ملے کچھ بھی نہیں ہے وقت مرے پاس ہر کسی کے لیے مری بلا سے وہ ہوتے ہوں آپ کے کچھ بھی جو میرا حق ہے مجھے وہ تو دیجیے صاحب طلب کیا نہیں میں نے جناب سے کچھ بھی ذرا سی بات پہ تیرا یہ حال ہے باصرؔ ابھی تو میں نے بتایا نہیں تجھے کچھ بھی
بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے
بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے چاند سی شکل تری موجب طغیانی ہے اب تو تجھ پر بھی کسی اور کا ہوتا ہے گماں کس قدر دیر میں صورت تیری پہچانی ہے در ودیوار سے قائم تھا بھرم غربت کا آج بے پردہ مری بے سروسامانی ہے میں جو مغموم ہوا، دل یہ پکارا باصر میرے ہوتے تجھے کا ہے کی پریشانے ہے
چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا باصرؔ تمہارے یار نے اچھا نہیں کیا رہتی رہی ہے کوئی نہ کوئی کمی ضرور ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا دو چار بار دیکھ لو خود جا کے اس کے پاس کچھ بے سبب تو ہم نے کنارا نہیں کیا کہتے رہے ہو تم اسے ہمدرد و غم گسار اور اس نے بات کرنا گوارا نہیں کیا گر تھیں نگاہ میں مری کوتاہیاں تو ٹھیک اغیار نے تو کوئی اشارہ نہیں کیا حیراں ہوں لوگ کہتے ہیں کیوں اس کو چارہ گر جس نے کسی مریض کو اچھا نہیں کیا دن رات ہم کو قرض چکانے کی فکر ہے گو اس نے واپسی کا تقاضا نہیں کیا ہوتے جو آج ان کی نگاہوں میں سرفراز ہم نے تو کوئی کام بھی ایسا نہیں کیا
دشمنی جس کی دوستی جیسی
پھر ہمیں جستجو ہوئی اُس کی دشمنی جس کی دوستی جیسی سامنے اُس کی سَرد مہری کے کیا ہمارے مزاج کی گرمی چھیڑنا چاہتے ہو دُکھتی رگ بات ہو جائے گی بہت لمبی ابھی تو صبح کا اُجالا تھا ہو گئی شام کس قدر جلدی تِیر تو بعد میں چلا باصرِؔ تم نے پہلے ہی جان دے ڈالی