دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
پہلی سی وہ اب صورت بازار نہیں ہے
ہر بار وہی سوچ وہی زہر کا ساغر
اس پر یہ ستم جرأت انکار نہیں ہے
کچھ اٹھ کے بگولوں کی طرح ہو گئے رقصاں
کچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے
دل ڈوب گیا لذت آغوش سحر میں
بیدار ہے اس طرح کہ بیدار نہیں ہے
ہم اس سے متاع دل و جاں مانگ رہے ہیں
جو ایک تبسم کا روادار نہیں ہے
یہ سر سے نکلتی ہوئی لوگوں کی فصیلیں
دل سے مگر اونچی کوئی دیوار نہیں ہے
دم سادھ کے بیٹھا ہوں اگرچہ مرے سر پر
اک شاخ ثمر دار ہے تلوار نہیں ہے
دم لو نہ کہیں دھوپ میں چلتے رہو باقیؔ
اپنے لیے یہ سایۂ اشجار نہیں ہے
باقی صدیقی
تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
ہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں
جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیں
ہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں
وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے
ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں
کیا ذروں کا جوش صبا نے چھین لیا
گلشن میں کیوں یاد بگولے آتے ہیں
دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے
ہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں
دل ناداں ہے شاید راہ پہ آ جائے
تم بھی سمجھاؤ ہم بھی سمجھاتے ہیں
تم بھی الٹی الٹی باتیں پوچھتے ہو
ہم بھی کیسی کیسی قسمیں کھاتے ہیں
بیٹھ کے روئیں کس کو فرصت ہے باقیؔ
بھولے بسرے قصے یاد تو آتے ہیں
باقی صدیقی
ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
ہم ترے واسطے مقتل میں تھے جانے والے
خندہ گل کی حقیقت یہ کبھی ایک نظر
اے بہاروں کی طرح راہ میں آنے والے
وقت کے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
آئنہ گردش دوراں کو دکھانے والے
ختم ہنگامہ ہوا جب تو کھڑا سوچتا ہوں
آپ ہی چور نہ ہوں شور مچانے والے
غیر کے وصف کو بھی عیب کریں گے ثابت
تنگ دل اتنے کبھی تھے نہ زمانے والے
کوئی بات آ گئی کیا ان کی سمجھ میں باقیؔ
کس لئے چپ ہیں ہنسی میری ارانے والے
باقی صدیقی
کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا
مری چشم تر میں رکا نہیں کہ تھا رتجگوں کا ڈسا ہوا
مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاں
وہی ایک لفظ جو آپ نے، مرے کان میں ہے کہا ہوا
ہے نگاہ میں مری آج تک، وہ نگاہ کوئی جھکی ہوئی
وہ جو دھیان تھا کسی دھیان میں، وہیں آج بھی ہے لگا ہوا
مرے رتجگوں کے فشار میں، مری خواہشوں کے غبار میں
وہی ایک وعدہ گلاب سا، سر ِنخل جاں ہے کھلا ہوا
تری چشم ِخوش کی پناہ میں، کسی خواب زار کی راہ میں
مرے غم کا چاند ٹھہر گیا، کہ تھا رات بھر کا تھکا ہوا
کسی دل کشا سی پکار سے، اسی ایک بادِبہار سے
کہیں برگ برگ نمو ملی ،کہیں زخم زخم ہرا ہوا
ترے شہرِعدل سے آج کیا، سبھی درد مند چلے گئے؟
نہیں کاغذی کوئی پیرہن، نہیں ہاتھ کوئی اٹھا ہوا
امجد اسلام امجد
اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے
نمیدہ پلکوں سے تیری یادوں کے پَل سنورتے تو سبز ہوتے
خزاں تو موقع پرست ٹھہری سو خُشک پتے بچھا رہی ہے
بہار جیسے وہ یار رستوں پہ پاٶں دھرتے تو سبز ہوتے
قدیم رستوں کے زرد پتے بھی خوش کلامی کے منتظر ہیں
کہ آتے جاتے تم ان درختوں سے بات کرتے تو سبز ہوتے
جو سبز ہوتے ہمارے ساۓ سے چھاٶں ملتی مسافروں کو
بُریدہ شاخوں کو چھُو کے ہاتھوں سے تم گزرتے تو سبز ہوتے
تری محبت کے پریم جل تک رساٸی ممکن نہیں تھی ورنہ
ہمارے جیسے نمود پاکر شجر سےجھڑتے تو سبز ہوتے
عاطف جاوید عاطف