باقی صدیقی

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی

25 January 2026

19سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

واصف سیفی کا پیش کردہ کلام

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو اس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست جس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو اپنا لہو ہی رنگ ہے اپنی تپش ہی بو ہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو قدموں پہ بار ہوتے ہیں سنسان راستے لمبا سفر ہے ہم سفراں بولتے رہو ہے زندگی بھی ٹوٹا ہوا آئنہ تو کیا تم بھی بطرز شیشہ گراں بولتے رہو باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

— باقی صدیقی

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں

خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں نظر نظر سے نکلتی ہے درد کی ٹیسیں قدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں ہر ایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے ابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں ابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹا ابھی کوشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں چلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کر بھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔ کہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں

— باقی صدیقی

کیا لگا تھا

کیا لگا تھا کہ خود کو مجھ میں نچوڑ دوگے پھر ہم سے پوچھو گے غم ہمارے جب دل بھرے گا تو چھوڑ دو گے بتاؤ!!! جاناں یہی لگا تھا یہ بے ضرر سا جو ایک لڑکا عاجزی کا لباس اوڑھے غلیظ لوگوں میں جی رہا ہے بہا کہ آنسو عتاب عبرت بہت تسلی سے پی رہا ہے بہت ہی چپ ہے تو چپ رہے گا کہ روشنی بھی یہ کہ رہی تھی کہ اب اندھیرا بھی گپ رہے گا تو ایسی سوچیں غلام دل سے نکال پھینکو اگر اندھیرا یہاں پہ آئے تو اس پہ میری وہ شال پھینکو وہ شال جاناں !!!! جو ہم نے سورج سے تیری خاطر ادھار لی تھی کہ جس میں ہم نے خزاں چھپا کہ تمھاری خاطر بہار لی تھی اگر وہ پھر بھی نہ پیچھا چھوڑے تو اس کو کہنا کہ مجھ کو ساقی نے یہ کہا تھا کہ روشنی کی نہ فکر کرنا کسی سے میرا نہ ذکر کرنا میں اپنے حصے کی سارے جگنو تمھارے قدموں میں ڈال دوں گا کہ اب اندھیرے نے تجھ کو دیکھا تو اسکی آنکھیں نکال دوں گا مگر زمانہ بدل چکا ہے تمام چیزیں جو مفت لی تھی اب تم ان کا حصاب لکھو کہ میں نے لکھا تھا ایک صفحہ تم اس کے بدلے کتاب لکھو لکھو کہ کیسے شراب چھوڑی لکھو کہ کیسے جناب چھوڑی لکھو کہ کیسے وہ وعدے توڑے لکھو کہ کیسے یوں اپنے چھوڑے لکھو کہ کیسے چلا تھا ساقی لکھو کہ کیسے جلا تھا ساقی لکھو کہ کیسے وہ چپ رہا تھا لکھو اندھیرا بھی گپ رہا تھا مگر یہ لکھنے کے واسطے تمھیں بھی جلنا پڑے گا جاناں تمھیں بھی میری طرح جی کی مرنا پڑے گا جاناں مگر یہ تم سے کبھی بھی لیکن نہ ہوسکا ہے نہ ہوسکے گا کہ کوئی بھی اب سچ کا پیچھا نہ کر رہا ہے نہ کرسکے گا تو چھوڑو جاناں سوال سارے فقت تم اپنا جواب سن لو میرا سارا عذاب سن لو کون ہوں میں !!!!!!! اگر تم پوچھو گے میرا شجرہ تو غزنوی کا عون ہوں میں کبھی جو لٹکا تھا سولی پر وہ انل حق جنون ہوں میں کبھی میں سب کو جواب دے دوں کبھی سوال بدون ہوں میں کبھی میں چیخوں بھڑک بھڑک کر کبھی سراپہ سکون ہوں میں کبھی میں جھیلوں زمانے بھر کو کبھی شکستہ ستون ہوں میں کبھی میں پڑھ لوں نمازیں ساری کبھی فرائض کا خون ہوں میں اگر صفائی نہیں یہ کافی ابھی بھی شک ہے کہ کون ہوں میں تو فارہہ بھی یہ کہ رہی ہے نئے زمانے کا جون ہوں میں سن لیا نہ کہ کون ہوں میں جون تھا وہ جون ہوں میں !!!!!!!!!

— نا معلوم