یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو خیر چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے
ہنگامِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھائوں میں وہ لوگ جلے ہیں
اک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
ادا جعفری
خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
ابتدا رنج کی کہاں سے ہوئی
کوئی طائر ادھر نہیں آتا
کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی
موسموں پر یقین کیوں چھوڑا
بد گمانی تو سائباں سے ہوئی
بے نہایت سمندروں کا سفر
گفتگو صرف بادباں سے ہوئی
یہ جو الجھی ہوئی کہانی ہے
معتبر حرف رایگاں سے ہوئی
دل کی آبادیوں کو پوچھو ہو
روشنی برق بے اماں سے ہوئی
تشنگی بے بسی لب دریا
میری پہچان ہی وہاں سے ہوئی
اتنی اجلی نہ تھی یہ راہ گزر
نقش پائے بلا کشاں سے ہوئی
ادا جعفری
اجنبی سبزہ زاروں میں
حد نظر تک بنفشہ کے پھول
اجنبی تو نہیں تھے نہ ہیں
وہ تو راہ سفر کے اجالے بھی تھے
ہم سفر بھی لگے
داستانیں سناتے بھی تھے
اور سنتے بھی تھے
اب کے موسم تمہیں یاد کرتے رہے
اور میں چپ رہی
ادا جعفری
توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے
دنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہے
ٹھہروں تو چٹانوں سی کلیجے پہ کھڑی ہے
جاؤں تو مرے ساتھ ہی دیوار چلے ہے
ہر غنچہ بڑے چاؤ سے کھلتا ہے چمن میں
ہر دور کا منصور سر دار چلے ہے
رنگوں کی نہ خوشبو کی کمی ہے دل و جاں کو
توشہ جو چلے ساتھ وہ اک خار چلے ہے
دل کے لیے بس آنکھ کا معیار بہت ہے
جو سکۂ جاں ہے سر بازار چلے ہے
حیرت سے شگوفوں کی جھپکتی نہیں آنکھیں
کس آن سے کانٹوں کا خریدار چلے ہے
خورشید وہاں ہم نے سلگتے ہوئے دیکھے
کرنوں کا جس آشوب میں بیوپار چلے ہے
اک جنبش مژگاں کی اجازت بھی نہیں ہے
دل ساتھ چلا ہے کہ ستم گار چلے ہے
تھے خضر بھی لاکھوں یہاں عیسیٰ بھی بہت تھے
آزار جو دل کا ہے سو آزار چلے ہے
ادا جعفری
کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
گھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا
پلکوں کے بیچ سارے اجالے سمٹ گئے
سایہ نہ ساتھ دے یہ وہی مرحلہ ہے کیا
میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوں
تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا
ساگر ہوں اور موج کے ہر دائرے میں ہوں
ساحل پہ کوئی نقش قدم کھو گیا ہے کیا
سو سو طرح لکھا تو سہی حرف آرزو
اک حرف آرزو ہی مری انتہا ہے کیا
اک خواب دل پذیر گھنی چھاؤں کی طرح
یہ بھی نہیں تو پھر مری زنجیر پا ہے کیا
کیا پھر کسی نے قرض مروت ادا کیا
کیوں آنکھ بے سوال ہے دل پھر دکھا ہے کیا
ادا جعفری
ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے
دل میں یہ اُجالے اُتر آئے ہیں کہاں سے
لوں سانس بھی آہستہ کہ یہ جائے ادب ہے
تحریر کروں اسمِ نبی ہدیہء جاں سے
کرنیں سی چھٹک جائیں اسی حجرہء دل میں
تُم ان کو پکارو تو حضور دل و جاں سے
ہر دور کی اُمید ہیں ہر عہد کا پیغام
پہجان ہے ان کی نہ زمیں سے نہ زماں سے
ادا جعفری
ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی
یادوں کے بھنور میں چل رہی تھی
سانچے میں خبر کے ڈھل رہی تھی
اک خواب کی لو سے جل رہی تھی
شبنم سی لگی جو دیکھنے میں
پتھر کی طرح پگھل رہی تھی
روداد سفر کی پوچھتے ہو
میں خواب میں جیسے چل رہی تھی
کیفیت انتظار پیہم
ہے آج وہی جو کل رہی تھی
تھی حرف دعا سی یاد اس کی
زنجیر فراق گل رہی تھی
کلیوں کو نشان رہ دکھا کر
مہکی ہوئی رات ڈھل رہی تھی
لوگوں کو پسند لغزش پا
ایسے میں اداؔ سنبھل رہی تھی
ادا جعفری