ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی انتشار کو نہایت سادہ لیکن دل میں اتر جانے والے الفاظ میں بیان کیا۔ 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ترقیِ ادب کے حوالے سے ممبئی ان کا مستقل شہر بنا۔ گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا، اسی لیے آغاز ہی سے زبان، لفظ اور بیان کی تہذیب سے ان کی گہری وابستگی قائم ہوگئی۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر گیا لیکن ندا فاضلی نے ہندوستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا، جس کا اثر ان کی شاعری میں دکھ، فاصلوں اور تعلق کے کرب کی صورت جھلکتا ہے۔
ندا فاضلی کی شاعری کا وصف یہ ہے کہ وہ مشکل جذبات کو عام فہم لہجے میں ڈھال دیتے تھے۔ ان کے اشعار میں صوفیانہ فکر، مشاہدے کی گہرائی، تنہائی کا درد، اور انسان دوستی کا پیغام نہایت دھیمے مگر پُراثر انداز میں جلوہ گر ہے۔ ’’ہر آدمی میں ہوتے ہیں دو چہرے‘‘ جیسی نظمیں اور غزلیں ان کی فکری گہرائی کی مثال ہیں۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انہوں نے ایسی تخلیقات پیش کیں جو آج بھی زبانِ زدِ عام ہیں اور دلوں میں ایک دیرپا نرمی چھوڑ جاتی ہیں۔
ایک استاد، نقاد اور سفرنامہ نویس کے طور پر بھی ندا فاضلی نے ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی اور زبان کی پاکیزگی کے علمبردار رہے۔ 8 فروری 2016ء کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی انسانی احساسات کی سچائی کے ساتھ زندہ ہے۔ ندا فاضلی کا نام جدید اردو شاعری کے اُن روشن ستاروں میں ہمیشہ شامل رہے گا جنہوں نے لفظ کو انسان کی داخلی صداؤں کا سچا آئینہ بنایا۔