اکبر اللہ آبادی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)

04 December 2025

22سپیکرز
209لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

برق کلیسا

رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید قدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریں گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے دلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے دل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیں سرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں آتش حسن سے تقوے کو جلانے والی بجلیاں لطف تبسم سے گرانے والی پہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرق ترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق پس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہی سر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوا یا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا ارض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہار دولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے ساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے شوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولی ناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولی غیر ممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کر حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں آگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں گل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیں پائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیں مطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہاد ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد دشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئی کامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی عرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روح اب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح شجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیں گیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف ٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف ہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگ دل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ یاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہ سب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ جوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثار نور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار اٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیک دو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایک موج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گرد میں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگرد مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں جب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہم تو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

— اکبر اللہ آبادی

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے

ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا خود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے جب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا یاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے دیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی میں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین جوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے

— اکبر اللہ آبادی

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا کہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیں مگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیر انہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا امید چشم مروت کہاں رہی باقی ذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پر ہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا

— اکبر اللہ آبادی