سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے تو کدھر جا رہا ہے دیوانے دوستی اب گلے کا ہار نہیں تار ٹوٹا بکھر گئے دانے صبح دم اپنی اپنی راہ لگے شمع کے جاں نثار پروانے زندگی سے نپٹ رہا ہوں ابھی موت کیا ہے مری بلا جانے
حفیظ جالندھری