حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے

سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے تو کدھر جا رہا ہے دیوانے دوستی اب گلے کا ہار نہیں تار ٹوٹا بکھر گئے دانے صبح دم اپنی اپنی راہ لگے شمع کے جاں نثار پروانے زندگی سے نپٹ رہا ہوں ابھی موت کیا ہے مری بلا جانے

— حفیظ جالندھری