کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا،
سمجھے وہی اسے جو ہو زخمی تیری نگاہ کا
مجھ کو تیری طلب ہے یار تجھ کو ہے چاہ غیر کی
اپنی نظر میںیاں نہیں طور کوئی نباہ کا
دین و دل و قرار و صبر عشق میںتیرے کھو چکے
جیتے جو اب کہ ہم بچے نام نہ لیںگے چاہ کا
وصل بھی ہو تو دل میرا غم کو نہ چھوڑے ہجر کے
یہ تو ہمیشہ ہے رفیق وصل ہے گاہ گاہ کا
سودا سُنا ہے میں نے یہ اُس پہ ہوا تو مبتلا
رشک سے جس کی چہرے کے داغ جگر ہے ماہ کا
محمد رفیع سودا
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میں
یہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں
کیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارا
اس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں
برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر
مژگاں کی یہ گھٹائیں اب تک برستیاں ہیں
لیتے ہیں چھین کر دل عاشق کا پل میں دیکھو
خوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں
اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویں
آنکھوں کو میری مژگاں ڈوروں سے کستیاں ہیں
قیمت میں ان کے گو ہم دو جگ کو دے چکے اب
اس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں
ان نے کہا یہ مجھ سے اب چھوڑ دخت رز کو
پیری میں اے دوانے یہ کون مستیاں ہیں
جب میں کہا یہ اس سے سوداؔ سے اپنے مل کے
اس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں
محمد رفیع سودا
دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
سخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا
وہم غلط کار نے دل خوش کیا
کس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا
جا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یار
دل تو مرا زور جگر کر گیا
رات ملا تھا مجھے تنہا رقیب
یار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا
فیض ترے وصف بنا گوش کا
اپنے سخن کو تو گہر کر گیا
دیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلی
لب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا
کیوں کے کراہوں نہ شب و روز میں
درد مرے پہلو میں گھر کر گیا
نفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دل
جان کا اپنی میں ضرر کر گیا
اور غزل اب کوئی سودا تو کہہ
یہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا
محمد رفیع سودا
جب خیال آتا ہے اس دل میں ترے اطوار کا
سر نظر آتا نہیں دھڑ پر مجھے دو چار کا
دیکھتا ہوں یار میں جس گھر میں تجھ کو جلوہ گر
مہر کو واں حکم ہے خارِسرِدیوار کا
عاشقوں کو شیخ دین و کفر سے کیا کام ہے
دل نہیں وابستہ اپنا سبحہ و زنار کا
ٹک دکھا دےاپنی اپنی ساقی چشم میگوں تو اسے
محتسب ہو جائے بندہ خانہ خمار کا
بسکہ پوچھوں ہوں میں اپنی چشم خون آلود کو
جامہ کا ہر ایک تختہ سیر ہے گلزار کا
آ خدا کے واسطے اس بانکپن سے درگزر
کل میں سودا یوں کہا دامان گہہ کر یار کا
تند ہو بولا وہ بانکا چھوڑ دامن کو مرے
راست ہوتے بھی کہیں دیکھا ہے خم کا
محمد رفیع سودا
ترے خط آنے سے دل کر مرے آرام کیا ہوگا
خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا
نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ ٖغربت میں
زیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا
مجھے مت دیر سے تکلیف کر کعبے کے اے زاہد
جو میرا کفر ایسا ہے تو پھر اسلام کیا ہوگا
مگر لائق نہیں اس دور میں ہم بادہ خواری کے
جو دیوے گا تو اے ساقی، ہمیں بھی جام کیا ہو گا
کسی دیں دار و کافر کو خیال اتنا نہیں آتا
سحر کیا ہو چکی سودا کے دل پر شام کیا ہو گا
محمد رفیع سودا
دنیا کی لمبی راہوں پر ہم یوں تو چلتے جاتے ہیں
کچھ ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو یاد ہمیشہ آتے ہیں
وہ راہ بدلتے ہیں اپنی اور مڑ کر ہاتھ ہلاتے ہیں
لیکن وہ دلوں کو یادوں کی خوشبو بن کر مہکاتے ہیں
ایسے ہی سفر کرتے کرتے اک شخص ملا ہم کو بھی کہیں
دنیا میں اچھے لوگ بہت لیکن اس کی سی بات نہیں
وہ دھیمے لہجے والا تھا اور دھیرے سے ہنستا تھا
جتنے بھی لوگ ملے ہم کو سچ جانو سب سے اچھا تھا
تھی لاگ نہ اس کے بولوں میں کی بات نہ کوئی لگاوٹ کی
اس کے فقرے ٹوٹے ٹوٹے اس کی آنکھیں کھوئی کھوئی
کہہ کر ہی نہ دے جو ہم چاہیں سوچا ہی کرے بیٹھا بیٹھا
پر دیکھے ایسی نرمی سے اک بار تو ہو جائے دھوکا
گو ساتھ ہمارا خوب رہا اس کو نہ ہوئی پہچان بہت
گر بوجھ لے دل کی بات کبھی ہو جاتا تھا حیران بہت
اور ہم اس کی حیرانی پر شرمندہ ہو کر رہ جاتے
کچھ اور ہمارا مطلب تھا پھر دیر تلک یہ سمجھاتے
اب چہرہ اس کا اجلا ہو یا آنکھیں اس کی ہوں گہری
یا اس کے پیارے ہونٹوں کی ہر بات لگے ٹھہریःٹھہری
کچھ اچھے لوگ جو اچھے ہوتے ہیں اور راہوں میں مل جاتے ہیں
ہیں ان کو اپنے کام بہت کب اپنا وقت گنواتے ہیں
کب پیاسے پیاسے رہتے ہیں کب جی کو روگ لگاتے ہیں
فہمیدہ ریاض