اردو شاعری کے عظیم شاعر میر محمد تقی میرؔ 1723 میں آگرہ میں پیدا ہوئے اور والد میر متقی کی علمی و صوفیانہ تربیت میں پرورش پائی۔ بچپن ہی میں والد کے انتقال اور بعد میں دہلی کی تباہیوں نے ان کے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ تعلیم میں فارسی، عربی اور منطق کے علوم میں مہارت حاصل کی، اور عشق و تصوف کے اسرار سے باخبر ہوئے۔ میرؔ کی ازدواجی زندگی بھی دکھ بھری رہی: جوانی میں شادی ہوئی مگر بیوی اور بچی کی وفات نے ان کی زندگی کو دائمی غم میں بدل دیا۔ تنگدستی کے باوجود وہ اکثر دہلی کے درباروں سے وظیفے لیتے مگر خودداری اور آزاد مزاجی کی وجہ سے کسی دربار کا مستقل حصہ نہ بنے۔ لکھنؤ میں قیام کے دوران ان کے پاس مالی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، مگر نواب آصف الدولہ کی طرف سے کبھی کبھار مدد ملتی رہی۔ اس دوران ان کے محلے میں ایک نوجوان لڑکی اکثر انہیں سلام کیا کرتی تھی۔ وہ کہا کرتے تھے یہ بچی مجھے میری بیٹی یاد دلا دیتی ہے لیکن وہ لڑکی شادی کے بعد دوسرے شہر چلی گئی ، مگر وہ شہر سے چلی گئی، اور میرؔ نے کئی دن تک کسی سے بات نہیں کی ۔ بڑھاپے میں میرؔ سخت کسمپرسی میں زندگی گزارتے ہوئے تنہائی اور یادوں کے ساتھ تھے۔ آخری ایام میں میرؔ کے پاس اپنا بستر تک نہ تھا — لیکن دل میں دہلی کی عظمت اور اپنے فن پر فخر باقی رہا، لکھنؤ کے شعرا انہیں طنزاً “دہلی کا پرانا شاعر” کہتے تھے، مگر وقت نے انہی کو اُردو غزل کا امام ثابت کیا,
بعد میں خدائے سخن اور امام غزل جیسے القابات نے انہی شعرا سےانہیں ممتاز کر دیا