میں بچ گئی ماں
میں بچ گئی ماں
ترے کچے لہو کی مہندی
مرے پور پور میں رچ گئی ماں
میں بچ گئی ماں
گر میرے نقش ابھر آتے
وہ پھر بھی لہو سے بھر جاتے
مری آنکھیں روشن ہو جاتی تو
تیزاب کا سرمہ لگ جاتا
سٹے وٹے میں بٹ جاتی
بے کاری میں کام آ جاتی
ہر خواب ادھورا رہ جاتا
مرا قد جو تھوڑا سا بڑھتا
مرے باپ کا قد چھوٹا پڑتا
مری چنری سر سے ڈھلک جاتی
مرے بھائی کی پگڑی گر جاتی
تری لوری سننے سے پہلے
اپنی نیند میں سو گئی ماں
انجان نگر سے آئی تھی
انجان نگر میں کھو گئی ماں
میں بچ گئی ماں
میں بچ گئی ماں
زہرا نگاہ
چلو اس کوہ پر اب ہم بھی چڑھ جائیں
جہاں پر جا کے پھر کوئی بھی واپس نہیں آتا
سنا ہے اک ندائے اجنبی باہوں کو پھیلائے
جو آئے اس کا استقبال کرتی ہے
اسے تاریکیوں میں لے کے آخر ڈوب جاتی ہے
یہی وہ راستہ ہے جس جگہ سایہ نہیں جاتا
جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا
جو سچ پوچھو تو ہم تم زندگی بھر ہارتے آئے
ہمیشہ بے یقینی کے خطر سے کانپتے آئے
ہمیشہ خوف کے پیراہنوں سے اپنے پیکر ڈھانکتے آئے
ہمیشہ دوسروں کے سائے میں اک دوسرے کو چاہتے آئے
برا کیا ہے اگر اس کوہ کے دامن میں چھپ جائیں
جہاں پر جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا
کہاں تک اپنے بوسیدہ بدن محفوظ رکھیں گے
کسی کے ناخنوں ہی کا مقدر جاگ لینے دو
کہاں تک سانس کی ڈوری سے رشتے جھوٹ کے باندھیں
کسی کے پنجۂ بے درد ہی سے ٹوٹ جانے دو
پھر اس کے بعد تو بس اک سکوت مستقل ہوگا
نہ کوئی سرخ رو ہوگا، نہ کوئی منفعل ہوگا
زہرا نگاہ
سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز كا تھا
کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا
زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی
اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا
چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر
جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا
میں اس دن تیری آمد کا نظارہ سوچتی تھی
وہ دن جب تیرے جانے کے لیے رکنا پڑا تھا
اسی حسن تعلق پر ورق لکھتے گئے لاکھ
کرن سے روئے گل تک ایک پل کا رابطہ تھا
بہت دن بعد زہراؔ تو نے کچھ غزلیں تو لکھیں
نہ لکھنے کا کسی سے کیا کوئی وعدہ کیا تھا
زہرا نگاہ
مرے پیارے خداوندا
مجھے جب کن کی ساعت میں
ترے بے عیب یکتا دست قدرت نے
ترے آدم کی باقی بچ رہی مٹی سے گوندھا تھا
مرا نقشہ بنایا تھا
تو مجھ میں کیا ترے آدم سے کمتر روح پھونکی تھی
کہ جیسے بے دلی عجلت میں کوئی کام نمٹایا
مری تخلیق کیا خالق
تری چشم تصور کی
کسی منصوبہ سازی کی نہیں مرہون منت بھی
مجھے پیدا کیا تو نے کسی دوجے کی خاطر کیا
تری حکمت کے سارے کارخانوں میں
نہیں کچھ تذکرہ میرا
مجھی پر تہمت اول ہے آدم کے بھٹکنے کی
اسی دن سے یہ آدم جب کبھی بھٹکا ہے اے مولا
تمام الزام میری ذات سے منسوب رہتا ہے
زمیں پہ میں ترے نائب کی نائب ہوں
اسی کی ہر ضرورت کا میں ساماں ہوں
مجھے اب زندگی بھر ایک سایہ بن کے جینا ہے
کسی آدم کی خواہش اور مرضی میں ڈھلا
اک عکس بن کر زندہ رہنا ہے
مرے تخلیق ہونے کی یہی کیا مقصدیت ہے
مرے پیارے خداوندا مجھے کیونکر نہ جانے
اپنے بے وقعت فسانے کے حوالوں میں
کہیں پر جھول لگتا ہے یہ قصہ کچھ عجب سا ہے
کہ ارض و عرش کا مالک جو ہے انصاف کا خالق
وہ اتنی بے رخی بے اعتنائی کیسے برتے گا
وہ خود کامل ہے پھر ناقص یہ پیکر کیوں تراشے گا
کسی کی دل لگی میں کیوں مجھے دنیا میں لائے گا
مجھے ایسا بھی لگتا ہے
کہ یہ گتھی بہت پر پیچ فرسودہ خیالوں کی
کبھی تو حل بھی ہونی ہے
اور اس اندھیر نگری میں
ازل سے کمتری کا بوجھ ڈھوتی بنت حوا کی
درخشاں کل بھی ہونی ہے
صائمہ آفتاب