جب جھونکا تیز ہواؤں کا
کچھ سوچ کے دھیمے گزرا تھا
جب تپتے سورج کا چہرہ
اودی چادر میں لپٹا تھا
جب سوکھی مٹی کا سینہ
سانسوں کی نمی سے جاگا تھا
ہم لوگ اس شام اکٹھے تھے
جس نے ہمیں ہنس کر دیکھا تھا
وہ پہلا دوست ہمارا تھا
وہ شام کا پہلا تارا تھا
جو شاید ہم دونوں کے لئے
کچھ وقت سے پہلے نکلا تھا
جب جھلمل کرتا وہ کمرہ
سگرٹ کے دھوئیں سے دھندلا تھا
جب نشۂ مے کی تلخی سے!
ہر شخص کا لہجہ میٹھا تھا
ہر فکر کی اپنی منزل تھی
ہر سوچ کا اپنا رستہ تھا
ہم لوگ اس رات اکٹھے تھے
اس رات بھی کیا ہنگامہ تھا
میں محو مدارات عالم
اور تم کو ذوق تماشا تھا
موضوع سخن جس پر ہم نے
رائے دی تھی اور سوچا تھا
دنیا کی بدلتی حالت تھی
کچھ آب و ہوا کا قصہ تھا
جب سب لوگوں کی آنکھوں میں
کمرے کا دھواں بھر آیا تھا
تب میں نے کھڑکی کھولی تھی!
تم نے پردہ سرکایا تھا
جس نے ہمیں دکھ سے دیکھا تھا
وہ پہلا دوست ہمارا تھا
وہ شام کا پہلا تارا تھا
جو شاید ہم دونوں کے لئے
اس رات سحر تک جاگا تھا
وہ شام کا پہلا تارا تھا
زہرا نگاہ
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر
کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں
کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!
مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!
کوئی دستور نافذ کر
زہرا نگاہ
تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
ترے شہر میں مرے ہم سفر، وہ دکھوں کا جم غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
وہ جو خواب تھے مرے سامنے ، جو سراب تھے مرے سامنے
میں انہی میں ایسے الجھ گیا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
عجب ایک چپ سی لگی مجھے ، اسی ایک پل کے حصار میں
ہوا جس گھڑی ترا سامنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
کہیں بے کنار تھیں خواہشیں ، کہیں بے شمار تھیں الجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ہجوم تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
تھا جو شور میری صداؤں کا ، مری نیم شب کی دعاؤں کا
ہوا ملتفت جو مرا خدا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
مری زندگی میں جو لوگ تھے ، مرے آس پاس سے اٹھ گئے
میں تو رہ گیا انہیں روکتا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
تری بے رخی کے حصار میں ، غم زندگی کے فشار میں
مرا سارا وقت نکل گیا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
مجھے وہم تھا ترے سامنے ، نہیں کھل سکے گی زباں مری
سو حقیقتا بھی وہی ہوا ، مری بات بیچ میں رہ گئی
امجد اسلام امجد