دیر تک روشنی رہی کل رات
میں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات
ایک مدت کے بعد دھند چھٹی
دل نے اپنی کہی سنی کل رات
انگلیاں آسمان چھوتی تھیں
ہاں مری دسترس میں تھی کل رات
اٹھتا جاتا تھا پردۂ نسیاں
ایک اک بات یاد تھی کل رات
طاق دل پہ تھی گھنگھروؤں کی صدا
اک جھڑی سی لگی رہی کل رات
جگنوؤں کے سے لمحے اڑتے تھے
میری مٹھی میں آ گئی کل رات
زہرا نگاہ
جنون اولیں شائستگی تھی
وہی پہلی محبت آخری تھی
جہاں ہم پھر سے بسنا چاہتے تھے
وہ بستی ہو کے دنیا ہو چکی تھی
کشادہ تھے بہت بازوئے وحشت
یہ زنجیر خرد الجھی ہوئی تھی
کبھی ہر لفظ کے سو سو معانی
کبھی پوری کہانی ان کہی تھی
سحر آغاز شب اتمام حجت
عجب زہراؔ کی وضع زندگی تھی
زہرا نگاہ
حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی
تم سے بات کرنے کی کیسی آرزو کی تھی
ساتھ ساتھ چلنے کی کس قدر تمنا تھی
ساتھ ساتھ کھونے کی کیسی جستجو کی تھی
وہ نہ جانے کیا سمجھا ذکر موسموں کا تھا
میں نے جانے کیا سوچا بات رنگ و بو کی تھی
اس ہجوم میں وہ پل کس طرح سے تنہا ہے
جب خموش تھے ہم تم اور گفتگو کی تھی
زہرا نگاہ
رستے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا
منزل پہ بھی آ جاتے نقشہ بھی بدل جاتا
اس جھوٹ کی دلدل سے باہر بھی نکل آتے
دنیا میں بھی سر اٹھتا اور گھر بھی سنبھل جاتا
ہنستے ہوئے بوڑھوں کو قصے کئی یاد آتے
روتے ہوئے بچوں کا رونا بھی بہل جاتا
کیوں اپنے پہاڑوں کے سینوں کو جلاتے ہم
خطرہ تو محبت کے اک پھول سے ٹل جاتا
اس شہر کو راس آئی ہم جیسوں کی گم نامی
ہم نام بتاتے تو یہ شہر بھی جل جاتا
وہ ساتھ نہ دیتا تو وہ داد نہ دیتا تو
یہ لکھنے لکھانے کا جو بھی ہے خلل جاتا
زہرا نگاہ
تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا
تم تو وفا میں سرگرداں ہو شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے میں پاگل ہو جاؤں گا
جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا
عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا
شام کہ اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہوں میں شاید مر جاؤں گا
عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا
جون ایلیا
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
میرے دل سے غبار اٹھتا ہے
میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو بار بار اٹھتا ہے
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
اس کی گل گشت سے روش بہ روش
رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے
تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شور گریہ ہزار اٹھتا ہے
کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں
لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے
صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال
دشت سے خاکسار اٹھتا ہے
ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا
بر سر کہسار اٹھتا ہے
کرب تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے
تو نے پھر کسب زر کا ذکر کیا
کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
لو وہ مجبور شہر صحرا سے
آج دیوانہ وار اٹھتا ہے
اپنے یاں تو زمانے والوں کا
روز ہی اعتبار اٹھتا ہے
جونؔ اٹھتا ہے یوں کہو یعنی
میرؔ و غالبؔ کا یار اٹھتا ہے
جون ایلیا