دھواں دھار تقریر جس نے ابھی کی تھی وہ آدمی ہے
جو لفظوں کے پل باندھتا ہے
ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو وعدوں کی افیون دے کر
اسی پل پہ لاتا ہے اور غرق کر کے
پلٹ جاتا ہے حسب دستور آرام گہ کو
یہ دنیا تو ان شعلہ سامان لوگوں نے آپس میں تقسیم کر لی
جو ہتھیار کی شکل میں رنج و غم ڈھالتے ہیں
یا گولہ بارود کے کارخانوں کے مالک ہیں
یا پھر ثنا خواں ہیں ان کے
ہمارے لیے صرف نعرے بچے ہیں
صنعتی دور کے کج کلاہوں کی داد و دہش روح پرور ہو یا جان لیوا
مگر زندہ باد، آفریں، مرحبا، کے سوا کچھ نہیں پاس اپنے
یہ سب جانتا ہے ہماری شجاعت کی پرواز کیا ہے
ہماری جواں مردی اک صوبہ جاتی تعصب سے
یا فرقہ واری فسادات سے آگے کچھ بھی نہیں ہے
فتوحات اسکندری ہم نے تختی پہ لکھ کر مٹا دی ہیں کب کی
ہمارے بعد زمیں کے تلے سو رہے ہیں
عجائب گھروں میں لٹکتی ہیں تلواریں ان کی
اور ان کے زریں لبادوں کو گھن کھا گیا ہے
ذرہ بکتروں پر کلونس آ گئی ہے
یہ سب جانتا ہے ہماری تگ و تاز کیا ہے
ہمارے شکم گر ہمارے سروں پہ نہ ہوتے
اور چہروں میں اعضائے جنسی
تو ہم اچھے انسان بنتے
ہمارے گھروں کے کم و بیش سب عقبی دروازے پیہم کھلے ہیں
ہمارے لہو میں ہرے لال پیلے بہت سارے پرچم کھلے ہیں
کہیں سے مگر حق کی آواز آتی نہیں ہے
ہماری زباں دل کی ساتھی نہیں ہے
ہمارے لیے کھوکھلا لفظ جمہوریت ہے، تقاریر ہیں لیڈروں کی
ہمارے لیے روز ناموں کے صفحات ہیں، اشتہارات ہیں نیم جنسی
ہمارے لیے دیوتاؤں کے بت ہیں، خدا کے فرامین ہیں اور عقبیٰ
جو بد رنگ ہے حال کی طرح اور کورے لٹھے کی بو سے بھری ہے
ہمارے لیے صرف روٹی کی جد و جہد
عورتوں کے برہنہ بدن کی تمنا سے آگے کہیں کچھ نہیں ہے
ہماری رگوں میں جو تیزاب ہے اس کی شدت کبھی کم نہ ہوگی!
اخترالایمان
یہ درد زندگی کس کی امانت ہے کسے دے دوں
کوئی وارث نہیں اس کا متاع رائیگاں ہے یہ
مسیحا اب نہ آئیں گے یہی نشتر رگ جاں میں
خلش بنتا رہے گا میری سانسوں میں نہاں ہے یہ
خدایا ہم سے پہلے لوگ بھی جو اس زمیں پر تھے
یونہی پامال ہوتے تھے، جو اس کے بعد آئیں گے
امید صبح کے خنجر سے زخمی ہو کے جائیں گے؟
(کہاں جا کر رکے گا قافلہ ان سوگواروں کا)
یہ پھر بھی تیرے بندے ہیں تری ہی حمد گائیں گے
انہیں آنکھیں تو دے دی ہیں بصارت بھی انہیں دے دے
تجھے سب ڈھونڈتے ہیں اس طرح اندھے ہیں سب جیسے
اسی کورے ورق پر کچھ عبارت بھی انہیں دے دے
کھڑا ہے منہ کیے مشرق کی جانب، کوئی مغرب کی
مری تصویر میں ان چیختے رنگوں کی ایسی کیا ضرورت تھی)
خدایا بخش دے ان بے گناہوں کے گناہوں کو
یہ معنی ڈھونڈتے ہیں کشمکش میں رات اور دن کی
حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں سال اور سن کی
یہ سب مجبور ہیں ان پر در توبہ کھلا رکھنا
یہ دنیا خوف اور لالچ پہ جس کی نیو رکھی ہے
اسی مٹی سے پھوٹے ہیں اسی دھرتی کے پالے ہیں
اجالا بھی یہی ہیں اس زمیں کا اور اندھیرا بھی
یہی شہکار ہیں تیرا یہی پاؤں کے چھالے ہیں
(یہ سب کے سب لباس فاخرہ میں میلی بھیڑیں ہیں)
الہ العالمیں ان کی خطا سے در گزر کرنا
بہت معذور ہیں یہ خود نگر اپنی جبلت سے
مقدر ان کا ہے شام و سحر کو روز سر کرنا
مساعی ان کی سیم و زر کے ڈھیروں میں بدل دینا
ترے پاس آئیں، موتی کے محل محنت کا پھل دینا
اختر الایمان