اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج
حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج
آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج
حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج
جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار
تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار
تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار
تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار
کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہے
تپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہے
پاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہے
بن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہے
زیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
زندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیں
نبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیں
اڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیں
جنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیں
اس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
گوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیے
فرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیے
قہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیے
زہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیے
رت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں
تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں
تو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیں
تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں
اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
توڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکل
ضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکل
نفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکل
قید بن جائے محبت تو محبت سے نکل
راہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
توڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑ
تیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑ
طوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑ
توڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑ
بن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں
تیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیں
ہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیں
میں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیں
لڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
کیفی اعظمی
روز بڑھتا ہوں جہاں سے آگے
پھر وہیں لوٹ کے آ جاتا ہوں
بارہا توڑ چکا ہوں جن کو
انہیں دیواروں سے ٹکراتا ہوں
روز بستے ہیں کئی شہر نئے
روز دھرتی میں سما جاتے ہیں
زلزلوں میں تھی ذرا سی گرمی
وہ بھی اب روز ہی آ جاتے ہیں
جسم سے روح تلک ریت ہی ریت
نہ کہیں دھوپ نہ سایہ نہ سراب
کتنے ارمان ہیں کس صحرا میں
کون رکھتا ہے مزاروں کا حساب
نبض بجھتی بھی بھڑکتی بھی ہے
دل کا معمول ہے گھبرانا بھی
رات اندھیرے نے اندھیرے سے کہا
ایک عادت ہے جئے جانا بھی
قوس اک رنگ کی ہوتی ہے طلوع
ایک ہی چال بھی پیمانے کی
گوشے گوشے میں کھڑی ہے مسجد
شکل کیا ہو گئی مے خانے کی
کوئی کہتا تھا سمندر ہوں میں
اور مری جیب میں قطرہ بھی نہیں
خیریت اپنی لکھا کرتا ہوں
اب تو تقدیر میں خطرہ بھی نہیں
اپنے ہاتھوں کو پڑھا کرتا ہوں
کبھی قرآں کبھی گیتا کی طرح
چند ریکھاؤں میں سیماؤں میں
زندگی قید ہے سیتا کی طرح
رام کب لوٹیں گے معلوم نہیں
کاش راون ہی کوئی آ جاتا
کیفی اعظمی
نذرانہ
تم پریشان نہ ہو، بابِ کرم وا نہ کرو
اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا
اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں
شبِ تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا
راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری
کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں
کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں
میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں
یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا
کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں
کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے
دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں
ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش
جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے
مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں
اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے
گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر
جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے
میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید
پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے
کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول
چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت
ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق
ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت
پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں
کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو
کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو
اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو
آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے
میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا
تم پریشان نہ ہو، بابِ کرم وا نہ کرو
اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا
کیفی اعظمی