سماعتوں میں فقط ایک نام جاری ہے
زباں خموش ہے لیکن کلام جاری ہے
بہت سجی ہوئی گلیوں پہ اتنی حیرت کیوں
ہمارا قتل ہے اور اہتمام جاری ہے
ابھی تلک یونہی سہنے پہ میں لگا ہوا ہوں
ترا سلوک وہی بے لگام، جاری ہے
حضور آپ تو مہمانِ خاص ہیں دل کے
ابھی نہ آئیں ابھی انتظام جاری ہے
یہ عشق دفن ہوا پھر بھی مر نہیں پایا
چمک رہی ہے لحد اور سلام جاری ہے
ابھی تو زخم بھی پورے گنے نہیں گئے ہیں
ابھی تو دل پہ بہت دن سے کام جاری ہے
اک ایک کر کے مرے خواب مارے جاتے ہیں
تمہارے بعد تو بس قتلِ عام جاری ہے
یہ خواب دیتے ہیں ہم کو سزا محبت کی
عجب سا زین کوئی انتقام جاری ہے
زین شکیل
ہمیں دکھ رہا تو یہی رہا ہمیں لب نچوڑنے پڑ گئے
جو تری صِفَت کے خلاف تھے، وہی لفظ بولنے پڑ گئے
میں کہوں حیات ہے مختصر، وہ مری وفات کے منتظر
انہیں پھر یقین نہیں ہوا، انہیں عہد توڑنے پڑ گئے
میں جرید باطنِ حُزن میں جو گیا پلٹ کے نہ آ سکا
میں نہیں رہا ہوں تو اب تجھے، مرے درد بانٹنے پڑ گئے
تُو رہینِ لہجہِ عشق تھا، تجھے کیسے تُرش دُعا لگی
یونہی گفتگو میں نجانے کیوں تجھے زہر گھولنے پڑ گئے
تری کَج کلاہی ہری رہے، تری دیوتائی کی خیر ہو
ہمیں جتنے تیرے فُیُوض تھے، تجھے عین موڑنے پڑ گئے
وہ سرودِ دل کا طلسم تھا، کہ تجھی کو حرف نہیں ملے؟
تُو تَو وجد میں بھی رہا ہے چُپ، تجھے شبد سوچنے پڑ گئے
جو امیدِ درمنِ وقت تھی، وہ تو نذرِ سانحہ ہو گئی
کبھی ہجر پا کے سَفَل ہوئے، کبھی وصل کاٹنے پڑ گئے
ذرا اشتہائے وصال سُن، ترے سکھ کا خانہ خراب ہو
ترا ہاتھ تھامنے والڑوں کو سلوک جھیلنے پڑ گئے
وہ جو مجھ سے کہتا تھا زین جی، تمہیں کب سے پروا ہے دہر کی
ذرا اس کے سر پہ پڑی تو پھر، اسے لوگ دیکھنے پڑ گئے
زین شکیل
کلام کر ! حسین شخص !
دیکھ ! آسماں کے کان بھی لٹک گئے !
سماعتیں تری صدائے سبز کی تلاش میں بھٹک رہی ہیں دیر سے !
کلام کر ! اے مہ جبین شخص !
مجھ سے آج میرے گھر کی کھڑکیاں، دیوار و در یہ کہہ رہے ہیں !
کوئی رمزِ ہجر آشکار کر نہیں رہا !
چلو ہزار بار نا سہی تو ایک بار کر نہیں رہا !
کلام تیرا یار کر نہیں رہا !
کلام کر ! اے شہرِ قلب کے مکین شخص !
تُو تو جانتا نہیں کہ تو نے اضطراب کا سکون کس قدر تباہ کر دیا !
سکوت کا جو حبس ہے ! اسی کو بے پناہ کر دیا !
سفید گفتگو کا رنگ بھی سیاہ کر دیا !
کلام کر ! ذہین شخص !
تُو نے ہی کبھی مجھے کہا تھا ! 'پُر یقین شخص'
دیکھ ! تیری چپ مرا یقین کھا گئی !
یہی تو میرا آسماں ! مری زمین کھا گئی !
یہ میں / یہ میرا سب تو اک طرف !
تری یہ چُپ تمام سامعین کھا گئی !
کلام کر ! اے بہتروں میں بہترین شخص !
دیکھ ! میرا ضبط اب ہوا کی بد زبانیوں سے ٹوٹ جائے گا !
کوئی بھی سنگ اب مری صدا کے راستے میں آ گیا تو ٹوٹ جائے !
سماعتوں کے پاؤں میں جو آبلہ ہے پھوٹ جائے گا !
یہ بد عقیدہ ! بے ایمان ! بد چلن ہوا بھی مجھ سے کہہ رہی ہے !
اب مدھر صدا کی خوشبوئیں فضا میں گھولتا نہیں !
سُروں کو ٹولتا نہیں !
جنوں کا بھید کھولتا نہیں !
سماعتیں بہت اداس ہو گئی ہیں زین !
تیرا یار بولتا نہیں ؟
کلام کر !
کہ اب تمام بد زباں صداؤں کو زوال ہو !
سماعتیں جو تیرے واسطے ترس گئی ہیں !
ان کا دور اب ملال ہو !
جو ہو نہیں رہا ہے ! 'وہ' کمال ہو !
کلام کر !
کہ اب تمام بے قراریوں کی خیر ہو !
تمام ساعتوں کی آہ و زاریوں کی خیر ہو !
سماعتوں کی انتظاریوں کی خیر ہو !
تری صدا کی پردہ داریوں کی خیر ہو !
زین شکیل
تُو کہاں تھا؟
کہ جب میں بُریدہ مقدر لیے تیرے در پر صدائیں لگاتا رہا۔
تیرا سائل سوالی رہا،
تیرے سائل کا دستِ شکستہ ہمیشہ سے خالی رہا۔
تُو کہا تھا؟
کہ جب مجھ پہ دیوار و در ہنس پڑے،
میری مجبوریاں یعنی میری کنیزیں مِرے ہی حرم میں تماشائی بن کر کھڑی رہ گئیں۔
تیرے وعدوں بھری سب کتابیں کہیں دھول میں ہی پڑی رہ گئیں۔
میری سب آرزؤئیں دھری کی دھری رہ گئیں۔
تُو کہاں تھا؟
کہ جب رونے والوں سے رویا گیا ہی نہیں تھا،
اذیت کے مارے ہوئے سونے والوں سے سویا گیا ہی نہیں تھا۔
سبھی ہنسنے والوں نے ہنسنے کی ساری حدیں پار کیں۔
دکھ توجہ سے ملنے لگیں تو بھلا کوئی کیسے نہ لے؟
دکھ توانائی دینے لگیں تو بھلا کوئی انکار کیسے کرے؟
مجھ کو وہ دکھ ملے جن میں تیری توجہ کی تمثیل تک بھی نہ تھی۔
ان دکھوں نے تو میری توانائیاں چھین لیں،
سب سکھوں سے شناسائیاں چھین لیں
وقت کی گود اتنی ملائم نہ تھی،
جس میں سر رکھ کے ہم زندگی کاٹتے آئے ہیں۔
تو کہاں تھا؟
کہ جب میرے ساون ترستے رہے،
میری آنکھوں کے بادل برستے رہے،
بے بسی گیت گاتی رہی، تیری دوری ستاتی رہی،
چاندنی میری آنکھیں جلاتی رہی،
یاد آتی رہی، تیری ہر بات مجھ کو رلاتی رہی۔
دل کی تختی پہ اک نام تیرا لکھا سو لکھا رہ گیا
تُو نہ تھا پر تری انتظاری کا در تو کھلا رہ گیا
تُو نے روشن کیا تو ترے ہجر کی تیرگی کھا گئی
تُو نے مڑ کر نہ دیکھا ترا دیپ جب سے بجھا رہ گیا
میرے جذبوں کی قیمت لگائی گئی تیرے بازار میں
میرے جذبات کوئی خسارے میں ہی بیچتا رہ گیا
میرے دامن میں، دنیا، نہ دولت، فقط چاک ہی چاک ہیں
چاک ہی چاک ہیں، میرے دامن میں اب اور کیا رہ گیا
تیری عزت تری آبرو تیری چادر سدا سبز ہو
تجھ سے میرا تعلق تو ہے چاہے اب نام کا رہ گیا
تُو کہاں تھا کہ جب میں نے تیری محبت کا ماتم کیا
بس اُسی دن سے میرے مقدر میں فرشِ عزا رہ گیا
تُو کہاں تھا کہ جب اتنی آزردگی بھر گئی روح میں
اتنی افسردگی روح میں بھر گئی، اب خلا رہ گیا
شہر و بازار سے، دشت و کہسار سے، یار و اغیار سے
تُو کہاں تھا کہ جب تیرا شاعر ترا پوچھتا رہ گیا۔۔
تُو کہاں تھا کہ جب دھوپ جھلسا رہی تھی مجھے
گردشِ حال بھی کھا رہی تھی مجھے
اور تنہائی فرما رہی تھی مجھے
"آ اداسی کی بانہوں میں آ...
بسترِ رنج پر اپنی راتیں بِتا۔۔
فخر کر اپنی بربادیوں پر بھی
اور بین کر اپنی آزادیوں پر"
کہ جب میں نے اپنے ہی ہونے کو جھٹلا دیا
اور کھونے کو بھی کچھ نہیں رہ گیا
تب کسی درد مندی کے پیکر نے چھو کر مجھے روشنی بخش دی
میرے جذبات کو زندگی بخش دی
میرے لفظوں کو تابندگی بخش دی۔۔۔
تُو کہاں تھا کہ جب وہ محبت سے معمور،
دل کا سمندر وہ شیریں سخن،
میرے ٹکڑے بہت دیر تک جوڑتا رہ گیا۔
میں اپنا سبھی کچھ اُسی لے حوالے کیا۔
تُو نہیں تھا۔۔۔ کہیں بھی نہیں تھا
اگر اب تُو آئے بھی تو۔۔۔
تیرا آنا بھی کیا۔۔۔
تُو اگر ہو بھی تو۔۔۔
تیرا ہونا بھی کیا۔۔۔
تُو ندامت کے آنسو بہائے بھی تو
تیرا رونا بھی کیا۔۔۔
اب میں اپنا نہیں۔۔۔ اب ترے واسطے
میرا ہونا بھی کیا۔۔۔
زین شکیل