مری تھم تھم جاوے سانس پیا
مری آنکھ کو ساون راس پیا
تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے
ترا لہجہ بہت اداس پیا
ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں
مرے تن پر جتنا ماس پیا
تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی
ترا ہر جانب احساس پیا
تری نگری کتنی دور سجن
مری جندڑی بہت اداس پیا
میں چاکر تیری ازلوں سے
تُو افضل، خاص الخاص پیا
مجھے سارے درد قبول سجن
مجھے تیری ہستی راس پیا
زین شکیل
درد کی ہی اساس ہوں میں تو
کتنی صدیوں کی پیاس ہوں میں تو
زائچے میں بھی میرے لکھا ہے
درد کا اقتباس ہوں میں تو
آپ خوش فہمیوں میں مت رہنا
جانے کس کس کو راس ہوں میں تو
صرف آنکھیں ہی لال ہیں نا بس؟
تم سے زیادہ اداس ہوں میں تو
تم نے زیادہ سمجھ لیا ہے ناں
صرف تھوڑا سا خاص ہوں میں تو
زین شکیل
جن پر بے ثمری کی تہمت لگ جائے
ان پیڑوں کے چھاؤں کو دکھ ہوتے ہیں
بیٹے کے چہرے پر زردی کیوں چھائی؟
کیسے کیسے ماؤں کو دکھ ہوتے ہیں
شہروں میں جا بسنے والے کیا جانیں
ان لوگوں کے گاؤں کو دکھ ہوتے ہیں
رستوں کی دشواری کیسے سمجھے گی
چھالوں کے بھی پاؤں کو دکھ ہوتے ہیں
جانے کس کے غم میں بادل روتا ہے
کیا پر درد گھٹاؤں کو دکھ ہوتے ہیں؟
عمریں گر بے جرم سزاؤں میں گزریں
پھر تو صرف جزاؤں کو دکھ ہوتے ہیں
زین شکیل
کس نے ہنستی ہوئی تصویر کے آنسو پونچھے
کاش کوئی مری تقدیر کے آنسو پونچھے
وہ کچھ ایسے کسی تمہید سے باہر نکلا
اور اُس نے مری تحریر کے آنسو پونچھے
کون اس آبلہ پائی پہ لگائے مرہم
کون پیروںپڑی زنجیر کے آنسو پونچھے
نیند کے درد سبھی بانٹنے والاآخر
کس طرح خواب کی تعبیر کے آنسو پونچھے
ایک مدت سے سزا کاٹ رہا ہوں ،اب تو
کوئی آ کر مِری تقصیر کے آنسو پونچھے
سب فسوں ٹوٹ گئے زین زباں کےآخر
اب کوئی لہجہء تسخیر کے آنسو پونچھے
زین شکیل
وہ بانٹتا ہے اگر کچھ تو یہ ستم بانٹے
جنوں میں عقل کو تھوڑا سا کر کے ضم، بانٹے
دَروں کے حبس کو خود میں سمیٹ لیتا ہے
یہ ایسا ابر نہیں ہے جو صرف نَم بانٹے
تمہارے ہاتھ اٹھے ہی نہیں زمانوں سے !
سخی کو وقت بہت ہو چکا، کرم بانٹے !
اسی لیے تو میسر اُسے میں آؤں نہیں !
فراخ دل ہے ! وہ ہر شے کو ایک دم بانٹے !
اسے کہو کہ اسے لوگ خرچ کر دیں گے !
جو بانٹنے ہی لگا ہے تو خود کو کم بانٹے !
یہ بانٹ سکتے نہیں ہیں ! سنا رہے ہو جنھیں !
تم اِس فقیر سے کہہ لو ! تمہارا غم بانٹے !
زین شکیل
حیا والی وہ با کردار آنکھیں
سدا روشن رہیں سردار آنکھیں
ہوئی محسوس یوں پلکوں کی جنبش
کہ جیسے ہوں پسِ دیوار آنکھیں
یہ دیکھیں ناں، یہ دنیا دار مل کر
دکھاتے ہیں مجھے، سرکار ! آنکھیں
اب اُن آنکھوں سے نیندیں جھانکتی ہیں
وہ آنکھیں، ہائے وہ بیدار آنکھیں
زین شکیل
دل نے رنج و ملال اپنائے
ہم نے سارے زوال اپنائے
دیکھ بیٹھا ہوا ہوں میں اب تک
صرف تیرا خیال اپنائے
تجھ سا اب دوسرا نہیں ہےناں
کون تیرا جمال اپنائے
اس کو سارے جواب ازبر تھے
اس نے پھر بھی سوال اپنائے
رائیگاں ہو گئے سبھی آخر
ہم نے جتنے کمال اپنائے
زین شکیل