جو کبھی بھی نہیں رہا ناراض !
آج وہ بھی مجھے لگا ناراض !
سارے عالم میں بانٹ کر خوشیاں !
وہ مجھے کرنے آ گیا ! ناراض !
میں نے پوچھا کہ 'نیند' کیسی ہے ؟
اُس نے ہولے سے کہہ دیا ! 'ناراض !
وہ خدا تو نہیں کہ نفل پڑھوں !
میں نے اک شخص کر دیا ناراض !
ایک مَنَّت تھی ! بجھ گئی آخر !
اب ہے درگاہ سے دیا ناراض !
میں غبارِ نجف ہوں ! اے دنیا !
دھیان کر ! میں اگر ہوا ناراض !
مجھ سے حضرت علیؑ نے پوچھنا ہے !
زین ! کس نے تجھے کیا ناراض ؟
زین شکیل
آنکھوں سے چند خواب گزرنے کے بعد بھی
دریا چڑھا ہوا ہے اترنے کے بعد بھی
ثابت پڑے ہوئے بھی شکستہ ہی ہم لگے
تم پھول ہی لگے ہو بکھرنے کے بعد بھی
دونوں کلائیوں میں سجا لی ہیں چوڑیاں
بیٹھی ہے وہ اداس سنورنے کے بعد بھی
ان راستوں سے آج بھی خوشبو نہیں گئی
ایسا ٹھہر گیا وہ گزرنے کے بعد بھی
اس نے مجھے تسلیاں دیتے ہوئے کہا
وہ مجھ سے ملنے آئے گا مرنے کے بعد بھی
زین شکیل
بھلا فقیر کو دنیا کی کیا ضرورت ہے ؟؟
ترا تو صرف ابھی مسئلہ 'ضرورت' ہے !
یہ سرکشی جو ترے سر چڑھی ہے ! مار اِسے !
خدا کی تُو نہیں ! تیری، 'خدا' ضرورت ہے !
ضمیر سوئے ہوئے دو گھڑی تو جاگیں گے !
سو اپنے شہر کی، اک سانحہ، ضرورت ہے !
ابھی تُو عشق میں کچا ہے میرے یار ! تری !
کلام کے لیے گر، 'رابطہ' ضرورت ہے !
کہا یہ اُس نے مرے پاس صرف رنج بچا !
میں اپنی موج میں تھا ! کہہ دیا ! ضرورت ہے !
مجھی پہ چیخ پڑا ! جا ! تری ضرورت نئیں !
وہ جیسے رویا ! مجھے یہ لگا ! ضرورت ہے !
میں کائنات ہتھیلی پہ لا کے رکھ دیتا !
تُو ایک بار مجھے بولتا ! ضرورت ہے !
تُو خود کہے نہ کہے ! میں سمجھ چکا مرے دوست !
کہ تیری، قُرب نہیں ! فاصلہ ضرورت ہے !
یہ بات پوچھنے والی ہے ؟ اُس سے کون کہے ؟
وہ پوچھتا ہے کہ بھیجوں دعا ؟ ضرورت ہے ؟
سخی سے یہ نہیں بولا کہ لازمی دے دے!
اٹھا کے ہاتھ بس اتنا کہا ضرورت ہے !
میں شاید اب کبھی اپنے بھی کام آ نہ سکوں !
اور اب تجھے بھی مری، کونسا ضرورت ہے !
تجھے تو یوں بھی بٹھا لیں گے لوگ آنکھوں پر !
حسین شخص ! تجھے میری کیا ضرورت ہے !
وہ روز مجھ کو نئے خواب سونپ دیتا ہے !
وہ مجھ سے یہ بھی نہیں پوچھتا ! ضرورت ہے ؟
ترے ہی نام ! مرے لفظ، جسم، جان، یہ دل !
مجھے بتا ناں ! تری اور کیا ضرورت ہے ؟
تُو جب بھی میٹھے سے لہجے میں بات کرتا ہے !
تَو بول دیتا ہے لہجہ ترا ! ضرورت ہے !
تجھے یہ لگتا ہے ؟ اُس کی کوئی ضرورت نئیں ؟
جو شخص منہ سے نہیں کہہ رہا ! ضرورت ہے !
تجھے مری نہ سہی ! پھر بھی تھوڑی دیر ٹھہر !
مجھے تری ! اے مرے دوستا ! ضرورت ہے !
یہ مجھ پہ چھوڑ دے ! جیسے بھی چاند لے آؤں !
اداس شخص ! فقط یہ بتا ! ضرورت ہے ؟
وہ اُس کی آنکھیں تو ویسے بھی جھیل آنکھیں ہیں !
بتاؤ ؟ سرمہ کی اُس کو بھلا ضرورت ہے ؟
مری طلب ہیں مرے یار تیرے بہکاوے !
قریب آ کے مجھے ورغلا ! ضرورت ہے !
پھر ایسے بین رچائے گا کون میری طرح ؟
کسی کے غم کو مری بے بہا ضرورت ہے !
وہ پوچھتی بھی رہی ! زین ! بول ! کیوں ٹھہروں ؟
میں اُس سے یہ بھی نہیں کہہ سکا، ضرورت ہے !
زین شکیل
دونوں کے درمیان مُقدّر تو آئے گا !
الزامِ بے وفائی کسی پر تو آئے گا !
جب تُم کُھلی کتاب ہو، پڑھتے رہیں گے لوگ !
بیری ہو گھر کے صحن میں، پَتھر تو آئے گا !
رویا ہوں اُن کی یاد میں، خود سے لِپٹ کے میں !
دِل کو مرے قرار، گھڑی بھر تو آئے گا !
لفظوں کو جوڑ توڑ کے اتنا بڑھا لیا !
میرا کلام غم کے برابر تو آئے گا !
آنکھوں سے دور رہنے کی تاکید کی تو تھی !
اِن میں اُتر گئے ہو ! سمندر تو آئے گا !
آوارگی میں گُم ہے ابھی دل تو کیا ہوا !
ٹوٹے گا کھا کے ٹھوکریں، پھر گھر تو آئے گا !
میرے ہزار کہنے پہ آئے نہ آئے زین !
لیکن وہ میری موت کا سُن کر تو آئے گا !
زین شکیل