بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے
یہ ایک صبح تو ہے سیر بوستاں کے لئے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی
فراغتیں بھی اس اک صدق رائیگاں کے لئے
لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ ان میں جئیں
اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لئے
پکارتی رہی بنسی بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ نئے چشمۂ رواں کے لئے
سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لئے
درخت ابر ہوا بوئے ہمرہاں کے لئے
سواد نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے
کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لئے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لئے
ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس
جو میرے دل میں ہے اس شہر بے مکاں کے لئے
یہ نین جلتی لوؤں جیتی نیکیوں والے
گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارض جاں کے لئے
ضمیر خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجدؔ
کہ نیند مجھ کو ملی خواب رفتگاں کے لئے
مجید امجد
برہنہ سر ہیں برہنہ تن ہیں برہنہ پا ہیں
شریر روحیں
ضمیر ہستی کی آرزوئیں
چٹکتی کلیاں
کہ جن سے بوڑھی اداس گلیاں
مہک رہی ہیں
غریب بچے کہ جو شعاع سحر گہی ہیں
ہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں
وہ منزلیں جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیں
ترس رہی ہیں
انہی کے قدموں میں بس رہی ہیں
حسین خوابوں
کی دھندلی دنیائیں جو سرابوں
کا روپ دھارے
ہمارے احساس پر شرارے
انڈیلتی ہیں
انہیں کی آنکھوں میں کھیلتی ہیں
انہی کے گم سم
اداس چہروں پر جھلملاتے ہوئے تبسم
میں ڈھل گئے ہیں ہمارے آنسو ہماری آہیں
طویل تاریکیوں میں کھو جائیں گے جب اک دن
ہمارے سائے
اس اپنی دنیا کی لاش اٹھائے
تو سیل رواں
کی کوئی موج حیات ساماں
فروغ فردا
کا رخ پہ ڈالے مہین پردا
اچھل کے شاید
سمیٹ لے زندگی کی سرحد
کے اس کنارے
پہ گھومتے عالموں کے دھارے
یہ سب جا ہے بجا ہے لیکن
یہ توتلی نو خرام روحیں کہ جن کی ہر سانس انگبیں
اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے
تو بہتی ندیوں
میں آنے والی ہزار صدیوں
کا یہ تلاطم
سکوت پیہم کا یہ ترنم
یہ جھونکے جھونکے
میں کھلتے گھونگھٹ نئی رتوں کے
تھکی خلاؤں
میں لاکھ ان دیکھی کہکشاؤں
کی کاوش رم
ہزار نا آفریدہ عالم
تمام باطل
نہ ان کا مقصد نہ ان کا حاصل
اگر انہی کونپلوں کی قسمت میں ناز بالیدگی نہیں ہے
مجید امجد
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا
جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بے حرف لو جلا رکھتا
ہوا کے سایوں میں ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا
انہیں حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا
پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتا
یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈتا رکھتا
غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں میں اور کیا رکھتا
کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا
جو شکوہ اب ہے یہی ابتدا میں تھا امجدؔ
کریم تھا مری کوشش میں انتہا رکھتا
مجید امجد