آ ،کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ
عمر گزری ہے تجھے دیکھے ہوئے
یاد ہے ، ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدّی بچّہ
تیری ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتا تھا
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کی تمناؤں کی بینائی سے
ہم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
یاد ہے ہم تجھے سُکھ مانتے تھے
رات ہنس پڑتی تھی بے ساختہ درشن سے تیرے
دن تیری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے ہم تجھے جان کہتے تھے
تیری خاموشی سے مر جاتے تھے
تیری آواز سے جی اُٹھتے تھے
یاد ہے ہم تجھے ملنے کے لیئے
وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
یاد ہے ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے
مگر کفر سے ڈر جاتے تھے
تیرے چِھن جانے کا ڈر
ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام ، کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ہوئے رستوں پہ
لیئے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں
یاد ہے ؟؟؟؟؟؟؟
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے
آ کسی روز ۔۔۔۔۔۔۔
کسی یاد کی دہلیز پہ آ
فرحت عباس شاہ
ہنسیں
اور ایک بار خود کو ایک دھوکہ اور دیں
کہیں کہ شکر ہے کہ خوف رولنے کی رُت گئی
وہ خوف جو بدن میں پھیل پھیل کر لہو اُچھالتا رہا
وہ خوف جو دلوں کو اتنے سال پالتا رہا
لکھیں، ہم اپنے سب مسافروں کو روز خط لکھیں
لکھیں کہ اب وطن میں کوئی بھی سحر سیاہ رات کی طرح نہیں رہی
فقط عجیب سے خموش جھپٹّے میں قید ہے
اور اب تمام بستیاں کچھ اس طرح کے راہزنوں کے ہاتھ ہیں کہ
جن کے جسم اور دل چھُپے ہوئے ہیں نرم رُو محافظوں کی کھال ہیں
وہ ہاو ہو، وہ دندناتی بجلیوں کا ناگوار شور دھیما پڑ گیا ہے
جھوٹ مُوٹ بارشوں کے بے سُرے الاپ سے
اگرچہ روح کی سڑاند اب بھی آرہی ہے ساری چمنیوں کی بھاپ سے
لکھیں، بڑی ہی احتیاط سے لکھیں
کہ لوگ مَر تو اب بھی روز ہی رہے ہیں سینکڑوں
مگر بہت سکون سے
کہ اُن کی گردنوں پہ اُن کے قاتلوں کی اُنگلیوں کا کوئی بھی نشاں نہیں
ہنسیں، اور ایک بار خود کو ایک دھوکہ اور دیں
سُنیں، اگر کہیں کوئی کراہ کوئی چیخ تو سماعتوں کو دوش دیں
سُنیں جو سچ کبھی خود اپنے آپ سے
تو اسِ کبیر جرم میں زباں میں اپنے سارے دانت گاڑ دیں
اور اپنے ہاتھ سے خود اپنے دامنوں کو پھاڑ دیں
گلہ کوئی دلوں میں رہ گیا ہو تو نکال دیں
دیا بُجھا کے آنکھ آئینے کی سرد آنکھ میں بڑے ہی اعتماد اور بہادری سے ڈال دیں
کہ پھر کہیں کوئی خلش کبھی صدا نہ دے سکے
ہنسیں
اور آج آپ اپنا سارا کچھ خوشی سے بے حساب خود فریبیوں کو سونپ دیں
قدیم مصر کے سبھی بچے کھچے، خداؤں کو
یقین کی مری ہوئی ہتھیلیاں بھی سونپ دیں
سبھی سُنہری تختیوں کو درمیاں سے توڑ کر
کہانیاں بھی بخش دیں
پہیلیاں بھی سونپ دیں
اُٹھا کے اپنی گڑیا، اپنی بانسری، قلم، دُعائیں
مُسکرا کے
راہزنوں کو
جان سے عزیز تر سہیلیاں بھی سونپ دیں
ہنسیں اور ایک بار خود کو ایک دھوکہ اور دیں
ہنسیں
اور آج تو کچھ اتنے زور سے ہنسیں کہ پھر
فضا میں دُور دُور تک سکوت گونجتا رہے
سکوت گونجتا رہے، سکوت گونجتا رہے
فرحت عباس شاہ
سائیاں میرے اچھے سائیاں
سائیاں ذات ادھوری ہے
سائیاں بات ادھوری ہے
سائیاں رات ادھوری ہے
سائیاں مات ادھوری ہے
دشمن چوکنا ہے لیکن
سائیاں گھات ادھوری ہے
سائیاں تیرے گاؤں میں
دکھ کی سیاہ فضاؤں میں
نا مانوس ہواؤں میں
لوگوں اور بلاؤں میں
قید ہوئے ہیں مدت سے
ہم بے کار دعاؤں میں
سائیاں رنج ملال بہت
دیوانے بے حال بہت
قدم قدم پر جال بہت
پیار محبت کال بہت
اور اسی عالم میں سائیاں
گزر گئے ہیں سال بہت
سائیاں ہر سو درد بہت
موسم موسم سرد بہت
رستہ رستہ گرد بہت
چہرہ چہرہ زرد بہت
اور ستم ڈھانے کی خاطر
تیرا اک اک فرد بہت
سائیاں تیرے شہر بہت
گلی گلی میں زہر بہت
خوف زدہ ہے دہر بہت
اس پر تیرا قہر بہت
کالی راتیں اتنی کیوں
ہم کو ایک ہی پہر بہت
سائیاں دل مجبور بہت
روح بھی چور و چور بہت
پیشانی بے نور بہت
اور لمحے مغرور بہت
ایسے مشکل عالم میں
تو بھی ہم سے دور بہت
سائیاں راہیں تنگ بہت
دل کم ہیں اور سنگ بہت
پھر بھی تیرے رنگ بہت
خلقت ساری دنگ بہت
سائیاں تم کو آتے ہیں
بہلانے کے ڈھنگ بہت
سائیاں میرے تارے گم
رات کے چند سہارے گم
سارے جان سے پیارے گم
آنکھیں گم نظارے گم
ریت میں آنسو ڈوب گئے
راکھ میں ہوئے شرارے گم
سائیاں میری راتیں گم
ساون اور برساتیں گم
لب گم گشتہ باتیں گم
بینائی گم جھاتیں گم
جیون کے اس صحرا میں
سب جیتیں سب ماتیں گم
سائیاں جان بیمار ہوئی
صدموں سے دو چار ہوئی
ہر شے سے بیزار ہوئی
پریتم دل آزار ہوئی
ہر اک سپنا سنگ ہوا
ہر خواہش دیوار ہوئی
سائیاں رشتے ٹوٹ گئے
سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے
تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھےجو
لٹے ہوئوں کو لوٹ گئے
سائیاں خواب اداس ہوئے
سرخ گلاب اداس ہوئے
دل بے تاب اداس ہوئے
دور سحاب اداس ہوئے
جب سے صحرا چھوڑ دیا
ریت سراب اداس ہوئے
سائیاں تنہا شاموں میں
چنے گئے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں
شامل ہوئے ہے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں
اپنا نام نہ ناموں میں
سائیاں ویرانی کے صدقے
اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے
لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں
اپنی رحمانی کے صدقے
سائیاں میرے درد گھٹا
سائیاں میرے زخم بجھا
سائیاں میرے عیب مٹا
سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں
سائیاں اپنا آپ دکھا
سائیاں میرے اچھے سائیاں
سائیاں میرے دولے سائیاں
سائیاں میرے پیارے سائیاں
سائیاں میرے بیبے سائیاں
فرحت عباس شاہ