کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی
اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی
وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی
پروین شاکر
شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے
رنگ ہی غم کے نہیں نقش بھی پیارے نکلے
ایک موہوم تمنا کے سہارے نکلے
چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے
کوئی موسم ہو مگر شان خم و پیچ وہی
رات کی طرح کوئی زلف سنوارے نکلے
رقص جن کا ہمیں ساحل سے بہا لایا تھا
وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے
عشق دریا ہے جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے کسی اور کنارے نکلے
دھوپ کی رت میں کوئی چھاؤں اگاتا کیسے
شاخ پھوٹی تھی کہ ہم سایوں میں آرے نکلے
پروین شاکر
دل آزاری بھی اک فن ہے
اور کچھ لوگ تو
ساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیں
چاہے ان کا برج کوئی ہو
عقرب ہی لگتے ہیں
تیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہ
اپنی یرقانی سوچوں سے
اور بھی زردی ملتے رہتے ہیں
مالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹل
کہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتے
اوپر سے اس عمل کو
فقرے بازی کہتے ہیں
جس کا پہلا نشانہ عموما
بل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے!
اپنے اپنے کنوئیں کو بحر اعظم کہنے اور سمجھنے والے
یہ ننھے مینڈک
ہر ہاتھی کو دیکھ کے پھولنے لگے ہیں
اور جب پھٹنے والے ہوں تو
ہاتھی کی آنکھوں پر پھبتی کسنے لگے ہیں
کوے بھی انڈے کھانے کے شوق کو اپنے
فاختہ کے گھر جا کر پورا کرتے ہیں
لیکن یہ وہ سانپ ہیں جو کہ
اپنے بچے
خود ہی چٹ کر جاتے ہیں
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ
سانپوں کی یہ خصلت
مالک جن و انس کی، انسانوں کے حق میں
کیسی بے پایاں رحمت ہے!
پروین شاکر
وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا
اک جھلک دیکھی تھی اس روئے دل آرا کی کبھی
پھر نہ آنکھوں سے وہ ایسا دل ربا منظر گیا
شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا
تھی وطن میں منتظر جس کی کوئی چشم حسیں
وہ مسافر جانے کس صحرا میں جل کر مر گیا
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
منیرنیازی
ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
ایک مسافت ختم ہوئی ہے ایک سفر ابھی کرنا ہے
گری ہوئی دیواروں میں جکڑے سے ہوئے دروازوں کی
خاکستر سی دہلیزوں پر سرد ہوا نے ڈرنا ہے
ڈر جانا ہے دشت و جبل نے تنہائی کی ہیبت سے
آدھی رات کو جب مہتاب نے تاریکی سے ابھرنا ہے
یہ تو ابھی آغاز ہے جیسے اس پنہائے حیرت کا
آنکھ نے اور سنور جانا ہے رنگ نے اور نکھرنا ہے
جیسے زر کی پیلاہٹ میں موج خون اترتی ہے
زہر زر کے تند نشے نے دیدہ و دل میں اترنا ہے
منیرنیازی
کوئی حد نہیں ہے کمال کی
کوئی حد نہیں ہے جمال کی
وہی قرب و دور کی منزلیں
وہی شام خواب و خیال کی
نہ مجھے ہی اس کا پتہ کوئی
نہ اسے خبر مرے حال کی
یہ جواب میری صدا کا ہے
کہ صدا ہے اس کے سوال کی
یہ نماز عصر کا وقت ہے
یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی
وہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھیں امانتیں کئی سال کی
ہے منیرؔ تیری نگاہ میں
کوئی بات گہرے ملال کی
منیرنیازی