پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو
کون سے پُھول کا تحفہ بھیجوں
میرا آنگن خالی ہے
لیکن میری آنکھوں میں
نیک دُعاؤں کی شبنم ہے
شبنم کا ہر تارہ
تیرا آنچل تھام کے کہتا ہے
خوشبو ، گیت ، ہَوا ، پانی اور رنگ کو چاہنے والی لڑکی !
جلدی سے اچھّی ہوجا
صبحِ بہار کی آنکھیں کب سے
تیری نرم ہنسی کا رستہ دیکھ رہی ہیں !
پروین شاکر
اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں کل پہ ہم اُٹھا رکھیں آج دوستی کر لیں !!!
پروین شاکر
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی
رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی
میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی
میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی
میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی
تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے
تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے
تیری بانہیں ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے
سب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیے
زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی!
آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگا
عشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگا
میرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!
آج کی شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے
ایک اندیشۂ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد
رنگ امید کھلے گا کہ بکھر جائے گا
وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا
جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا
خواب کا شہر رہے گا کہ اجڑ جائے گا
پروین شاکر
کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں
کہ اس لڑکی کی شاعری میں سوائے بارش کی ہنسی،
پھولوں کی مسکراہٹ،
چڑیوں کے گیتوں
اور اس کی اپنی سرگوشیوں کے
اور کچھ نہیں،
اگر زندگی سے محبت کرنا جرم ہے
تو یہ لڑکی پورے غرور کے ساتھ
اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے۔
نیم خوابی کا فسوں بڑی دیر سے ٹوٹتا ہے،
پر جب ایسا ہوا
تو روزنِ زنداں سے آنے والی،
اجنبی سیاہ بخت سر زمینوں کی ہوا
کے آنسوؤں کو اس نے اپنی پلکوں پر محسوس کیا ہے،
ان کا نمکین ذائقہ،
اس کی شہد آشنا زبان نے چکھا ہے،
لیکن جو لڑکی بسنت بہار کی نرم ہنسی
میں بھیگ چکی ہو،
اسے خزاں سے دکھ تو ہوسکتا ہے عناد نہیں،
جس کے اکیلے گھر میں
شدید چڑیا کا گیت چہرے اگا چکا ہو،
اسے سناٹے سے وحشت تو ہوسکتی ہے
نفرت نہیں
پروین شاکر
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی
پروین شاکر
تمہارا کہنا ہے
تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو
تمہاری چاہت
وصال کی آخری حدوں تک
مرے___ فقط میرے نام ہوگی
مجھے یقیں ہے ___ مجھے یقیں ہے
مگر قسم کھانے والے لڑکے!
تمہاری آنکھوں میں ایک تِل ہے
پروین شاکر
ہمیں خبر ہے ہَوا کا مزاج رکھتے ہو
مگر یہ کیا ، کہ ذرا دیر کو رُکے بھی نہیں
پروین شاکر
دعا تو جانے کون سی تھی
ذہن میں نہیں
بس اتنا یاد ہے
کہ دو ہتھیلیاں ملی ہوئی تھی
جن میں ایک میری تھی اور ایک تمہاری
پروین شاکر
میرے شانوں پہ سر رکھ کے
آج
کسی کی یاد میں وہ جی بھر کے رویا !
پروین شاکر
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
میں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں
میں آندھیوں کی مزاج آشنا رہی ہوں مگر
خُود اپنے ہاتھ سے کیوں گھر کو منہدم کر لوں
بچھڑنے والوں کے حق میں کوئی دُعا کر کے
شکستِ خواب کی ساعت محتشم کر لوں
بچاؤ شیشوں کے گھر کا تلاش کرہی لیا
یہی کہ سنگ بدستوں کا مُنصرِم کر لوں
میں تھک گئی ہوں اِس اندر کی خانہ جنگی سے
بدن کو’’سامرا‘‘ آنکھوں کو ’’معتصمِ‘‘کر لوں
مری گلی میں کوئی شہر یار آتا ہے
ملا ہے حکم کہ لہجے کو محترم کر لوں
پروین شاکر
اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
کچھ نہ ہوگا گلہ بھی کرنے سے
ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو
ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ
یار سب کو بنا لیا نہ کرو
منیرنیازی
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے
تمام علم زیست کا گزشتگاں سے ہی ہوا
عمل گزشتہ دور کا مثال میں ملا مجھے
نہال سبز رنگ میں جمال جس کا ہے منیرؔ
کسی قدیم خواب کے محال میں ملا مجھے
منیرنیازی
سُن نی کُڑئیے
رنگاں دیئے پُڑئیے
میں ٹُر جاواں گا
مُڑ کے نئیں آواں گا
فیر پچھتائیں گی
ہس کے بلائیں گی
رو کے بلائیں گی
فیر وی نئیں آواں گا
اُچے اسمان دا
تارا بن جاواں گا
دُور دُور رہواں گا
تے تینوں تڑفاواں گا
منیرنیازی
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کی پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
منیرنیازی
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا
راہبر میرا بنا گمراہ کرنے کے لیے
مجھ کو سیدھے راستے سے در بہ در اس نے کیا
شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا
شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اس نے منیرؔ
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اس نے کیا
منیرنیازی