ہو نہیں سکتا تری اس "خوش مذاقی" کا جواب
شام کا دلکش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب
رکھ بھی دے اب اس کتابِ خشک کو بالائے طاق
اُڑ رہا ہے رنگ و بُو کی بزم میں تیرا مذاق
چھُپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہرِ زرفشاں
دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں
موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیرِ سحاب
جس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب
اِک نگارِ آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہوا
جیسے عارض پر عروسِ نو کے ہو رنگِ حیا
شانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شب
آسماں پر منعقد ہونے کو ہے بزمِ طرب
اڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیور
آ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نُور
دیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیں
کیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیں؟
کیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیں؟
کیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیں؟
کیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتا
تیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صدا؟
سبزہ و گُل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیں
اُف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیں
حسنِ فطرت کی لطافت کا جو تُو قائل نہیں
میں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں
اسرار الحق مجاز
رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوں
کشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوں
کوئی دل سا درد آشنا چاہتا ہوں
رہ عشق میں رہنما چاہتا ہوں
تجھی سے تجھے چھیننا چاہتا ہوں
یہ کیا چاہتا ہوں یہ کیا چاہتا ہوں
خطاؤں پہ جو مجھ کو مائل کرے پھر
سزا اور ایسی سزا چاہتا ہوں
وہ مخمور نظریں وہ مدہوش آنکھیں
خراب محبت ہوا چاہتا ہوں
وہ آنکھیں جھکیں وہ کوئی مسکرایا
پیام محبت سنا چاہتا ہوں
تجھے ڈھونڈھتا ہوں تری جستجو ہے
مزا ہے کہ خود گم ہوا چاہتا ہوں
یہ موجوں کی بے تابیاں کون دیکھے
میں ساحل سے اب لوٹنا چاہتا ہوں
کہاں کا کرم اور کیسی عنایت
مجازؔ اب جفا ہی جفا چاہتا ہوں
اسرار الحق مجاز
ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی
بڑی تفصیل سے پھر اُس سے مِری بات ہوئی
میں نے پوچھا تِری پوشاک یہ دھانی کیوں ہے
چشمِ ویراں میں چُھپا درد کا پانی کیوں ہے
میں نے پوچھا کہ یہ گیسو ہیں پریشاں کیونکر
چاک کر رکھا ہے تُو نے یہ گریباں کیونکر
کیوں ہے چہرے پہ یہ صدیوں کی مسافت صاحب!
الجھی الجھی سی ہے کیوں تیری طبیعت صاحب!
تیری پوشاک کی شکنوں میں شکایت کیوں ہے
تیری آنکھوں میں یہ دریاؤں سی وحشت کیوں ہے
پاؤں زخمی ہیں زمیں پر بھی نہیں ٹکتے ہیں
مَیں سمجھتا ہوں تِرے پاؤں میں بھی چھالے ہیں
آنکھ چپ چاپ ہے اشکوں سے بہت بھاری ہے
ایسا لگتا ہے چھلک جانے کی تیاری ہے
ہونٹ لگتا ہے کہ صدیوں سے کسی آس میں ہیں
اُن کی خاموشی سے لگتا ہے بہت پیاس میں ہیں
میری باتوں کا تسلسل تھا کہ رُکتا ہی نہ تھا
ایسا لگتا تھا کہ شاید اسے سنتا ہی نہ تھا
وہ بہت دیر خموشی سے مجھے سنتا رہا
کبھی خود کو کبھی چہرے کو مِرے تکتا رہا
پھر ہنسا اتنا ہنسا اتنا کہ ہنستا ہی گیا
میں ڈرا اتنا ڈرا اتنا کہ ڈرتا ہی گیا
پھر مجھے پیار سے پہلو میں بٹھایا اس نے
بڑی تفصیل سے یوں عشق پڑھایا اس نے
تجھ کو حیرت مِرے گیسو مِری پوشاک سے ہے
زخمی پیروں سے ہے اور سر میں پڑی خاک سے ہے
تجھ کو بتلاتا ہوں ایسا مجھے کیا لاحق ہے
تجھ سے اس لمحہ مخاطب ہے جو، اِک عاشق ہے
عشق کا نام تو تُو نے بھی سنا ہو شاید
کیسے ہوتا ہے یہ کم بخت پڑھا ہو شاید
عشق ہستی بھی ہے مستی بھی ہے پندار بھی ہے
عشق آنسو بھی ہے نوحہ بھی ہے آزار بھی ہے
عشق پاگل ہے دوانہ بھی ہے اُستاد بھی ہے
عشق گریہ بھی تمنا بھی ہے فریاد بھی ہے
عشق بستی بھی ہے جنگل بھی ہے زندان بھی ہے
عشق مذہب ہے عقیدہ بھی ہے ایمان بھی ہے
عشق مکتب بھی ہے، استاد بھی،اُسلوب بھی ہے
عشق یوسفؑ بھی ہے عیسؑیٰ بھی ہے یعقوبؑ بھی ہے
عشق یونسؑ بھی ہے منصور بھی تبریز بھی ہے
عشق کومل سا تبسم بھی جنوں خیز بھی ہے
عشق حمزہؓ بھی علیؓ بھی یہ بلالِ حبشی
اور یہ مکہّ کا ہے قریہ یہی طائف کی گلی
عشق اصغرؓ بھی ہے اکبرؓ بھی ہے حسنینؑ بھی ہے
عشق زینبؓ بھی ہے عباسؓ بھی ہے زینؓ بھی ہے
عشق آدمؑ بھی ہے ادریسؑ، خلیلؑ اللہ بھی
عشق کے داعی رہے موسیٰ کلیم اللہ بھی
عشق ہی نعرہءِ توحید ہے اسلام بھی ہے
عشق آغاز بھی دوران بھی انجام بھی ہے
عشق جو عین بھی ہے شین بھی ہے قاف بھی ہے
عشق دعویٰ بھی ہے منصف بھی ہے انصاف بھی ہے
عشق ظالم ہے جو بازار میں بِکواتا ہے
بیچ بازار کے عاشق کو یہ نچواتا ہے
عشق نے چیر کے عاشق کو بھی دو لخت کیا
جب بھی چاہا کسی بد بخت کو خوش بخت کیا
یہ تو معمولی سی لغزش پہ سزا دیتا ہے
کر کے مدہوش یہ سسی کو سُلا دیتا ہے
عشق پاگل ہے دُعاؤں سے اُلجھ پڑتا ہے
اتنا خود سر ہے خداؤں سے اُلجھ پڑتا ہے
عشق آتش سے نہ سولی سے کبھی ڈرتا ہے
عشق دُنیا کے خداؤں سے نہیں مرتا ہے
پردے اک اور حقیقت سے اٹھانے ہوں گے
حضرتِ عشق کے اوصاف بتانے ہوں گے
اِس نے جنگل میں بھی بستی کا نظارہ دیکھا
اِس نے ہر روز محبت کا شمارہ دیکھا
اس نے بپھری ہوئی موجوں سے لڑائی کی ہے
جو بھی پوشیدہ تھی اس کو وہ دکھائی دی ہے
اس نے جلتی ہوئی آتش میں قدم رکھا ہے
زہرِ قاتل کا بھی ہنس ہنس کے مزا چکھا ہے
اس نے تپتی ہوئی آتش کو زباں پر رکھا
اس نے ہنستے ہوئے ہر ظلم کو جاں پر رکھا
حُسنِ لیلیٰ نے محبت کی زیارت کی ہے
اِس کی فرہاد نے مجنوں نے وضاحت کی ہے
حُسنِ یوسفؑ میں ہے پوشیدہ جوانی اس کی
نوعِ انسان سے پہلے تھی کہانی اس کی
اس کو مارے ہیں زمانے نے اٹھا کر پتھر
اس نے رکھے ہیں وہ سینے سے لگا کر پتھر
اس کے بازو کبھی گردن کبھی سر کٹتا ہے
پھر بھی محبوب کے مقصد سے نہیں ہٹتا ہے
مذہبِ عشق کا آئین انوکھا دیکھا
اصل کے نام پہ ہوتا یہاں دھوکا دیکھا
عشق عاشق سے بغاوت کا عقیدہ مانگے
عشق عاشق سے محبت کا وظیفہ مانگے
ان کی پوشاک کی شکنوں پہ نہ جاؤ صاحب!
وحشتِ چشم کے سمجھو گے نہ بھاؤ صاحب!
ان کی میراث ہے پاؤں کے ابلتے چھالے
بڑے مضبوط ہیں ہونٹوں پہ لگائے تالے
جیسے اس عشق کی تعریف نہیں ممکن ہے
ایسے عاشق کی بھی توصیف نہیں ممکن ہے
زلف و رخسار کے رسیا کو نہ عاشق کہنا
جب بھی کہنا ہے اُسے عشق کا فاسق کہنا
جو بھی بتلایا محبت سے سنبھالے رکھنا
یاد یہ قصّے یہ حکمت یہ حوالے رکھنا
آج کے واسطے اتنی ہی نصیحت ہے بہت
عشق کی راہ میں صدمے ہیں صعوبت ہے بہت
میں یہ بولا کہ بتا دو تو چلا جاؤں گا
کیا کبھی عشق کے عُقدے کو سمجھ پاؤں گا
کہہ اٹھا فال نکالی ہے تِرا نام بھی ہے
حلقہ ءِ عشق میں دانشؔ جی تِرا کام بھی ہے
دانش عزیز