جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
مگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
بہت کچھ اور بھی ہے اس جہاں میں
یہ دنیا محض غم ہی غم نہیں ہے
تقاضے کیوں کروں پیہم نہ ساقی
کسے یاں فکر بیش و کم نہیں ہے
ادھر مشکوک ہے میری صداقت
ادھر بھی بد گمانی کم نہیں ہے
مری بربادیوں کا ہم نشینو
تمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے
ابھی بزم طرب سے کیا اٹھوں میں
ابھی تو آنکھ بھی پر نم نہیں ہے
بہ ایں سیل غم و سیل حوادث
مرا سر ہے کہ اب بھی خم نہیں ہے
مجازؔ اک بادہ کش تو ہے یقیناً
جو ہم سنتے تھے وہ عالم نہیں ہے
اسرار الحق مجاز
کمال عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں میں
یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں میں
تمہیں تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا
بچا سکو تو بچا لو کہ ڈوبتا ہوں میں
یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ
تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں
اس اک حجاب پہ سو بے حجابیاں صدقے
جہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ہوں میں
بتانے والے وہیں پر بتاتے ہیں منزل
ہزار بار جہاں سے گزر چکا ہوں میں
کبھی یہ زعم کہ تو مجھ سے چھپ نہیں سکتا
کبھی یہ وہم کہ خود بھی چھپا ہوا ہوں میں
مجھے سنے نہ کوئی مست بادۂ عشرت
مجازؔ ٹوٹے ہوئے دل کی اک صدا ہوں میں
اسرار الحق مجاز
تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے
اس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے
ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے
یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے
آشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسم
اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز تبسم پا بھی گئے
روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے
اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے
ارباب جنوں پر فرقت میں اب کیا کہئے کیا کیا گزری
آئے تھے سواد الفت میں کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے
یہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی
محفل تو تری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے
اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں
سب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
اسرار الحق مجاز
جنون شوق اب بھی کم نہیں ہے
مگر وہ آج بھی برہم نہیں ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
بہت کچھ اور بھی ہے اس جہاں میں
یہ دنیا محض غم ہی غم نہیں ہے
تقاضے کیوں کروں پیہم نہ ساقی
کسے یاں فکر بیش و کم نہیں ہے
ادھر مشکوک ہے میری صداقت
ادھر بھی بد گمانی کم نہیں ہے
مری بربادیوں کا ہم نشینو
تمہیں کیا خود مجھے بھی غم نہیں ہے
ابھی بزم طرب سے کیا اٹھوں میں
ابھی تو آنکھ بھی پر نم نہیں ہے
بہ ایں سیل غم و سیل حوادث
مرا سر ہے کہ اب بھی خم نہیں ہے
مجازؔ اک بادہ کش تو ہے یقیناً
جو ہم سنتے تھے وہ عالم نہیں ہے
اسرار الحق مجاز
خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی
ہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی
تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا
کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی
دنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کی
اس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی
مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود
ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی
رنگینی نقاب میں گم ہو گئی نظر
کیا بے حجابیوں کا تقاضا کرے کوئی
یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہو
یا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئی
ہوتی ہے اس میں حسن کی توہین اے مجازؔ
اتنا نہ اہل عشق کو رسوا کرے کوئی
اسرار الحق مجاز
ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا
نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا
اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے
خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا
میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے
میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا
جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں
جانب گلشن کوئی مست خرام آ ہی گیا
پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی
شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا
میری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام
وہ مرا سرو رواں ماہ تمام آ ہی گیا
بارہا ایسا ہوا ہے یاد تک دل میں نہ تھی
بارہا مستی میں لب پر ان کا نام آ ہی گیا
زندگی کے خاکۂ سادہ کو رنگیں کر دیا
حسن کام آئے نہ آئے عشق کام آ ہی گیا
کھل گئی تھی صاف گردوں کی حقیقت اے مجازؔ
خیریت گزری کہ شاہیں زیر دام آ ہی گیا
اسرار الحق مجاز
اجنبی!
کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو
اور درد حد سے گزر جائے
آنکھیں تری
با ت بے بات رو پڑیں
تب کوئی اجنبی
تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے
تیری قامت کا سایہ بنے
تیرے زخموں کا سایہ بنے
تیری پلکوں سے شبنم چُنے
تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!
پروین شاکر
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی مگر دن بھی بڑے وہ
کیوں جان پہ بن آئی ہے بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی یوں پھول جھڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر
خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا
لٹ گئے اپنے خزانے کیا کیا
صرف ایک ترکِ تعلّق کے لئے
تو نے ڈھونڈے ہیں بہانے کیا کیا
مُڑ کے دیکھا ہی تھا ماضی کی طرف
آ ملے یار پرانے کیا کیا
آج دیکھی ہے جو تصویر تیری
یاد آیا ہے نجانے کیا کیا
شکریہ اے غم ِاحباب کی رات
ہم پہ گزرے ہیں زمانے کیا کیا
کس سے کہئيے کہ تیری چاہت میں
ہم نے سوچے تھے فسانے کیا کیا
رات صحرا کی ردا پر محسن
حرف لکھے تھے ہوا نے کیا کیا
محسن نقوی