سیماب اکبر آبادی

ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی

19 January 2026

14سپیکرز
569لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

مزدور

گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئی آنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی پیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراں ضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں ہڈیوں میں تیز چلنے سے چٹخنے کی صدا درد میں ڈوبی ہوئی مجروح ٹخنے کی صدا پاؤں مٹی کی تہوں میں میل سے چکٹے ہوئے ایک بدبو دار میلا چیتھڑا باندھے ہوئے جا رہا ہے جانور کی طرح گھبراتا ہوا ہانپتا گرتا لرزتا ٹھوکریں کھاتا ہوا مضمحل واماندگی سے اور فاقوں سے نڈھال چار پیسے کی توقع سارے کنبے کا خیال اپنے ہم جنسوں کی بے مہری سے مایوس و ملول صفحۂ ہستی پر اک سطر غلط حرف فضول اپنی خلقت کو گناہوں کی سزا سمجھے ہوئے آدمی ہونے کو لعنت اور بلا سمجھے ہوئے زندگی کو ناگوار اک سانحہ جانے ہوئے بزم کبر و ناز میں فرض اپنا پہچانے ہوئے راستے میں راہگیروں کی نظر سے بے نیاز شورش ماتم سے نغموں کے اثر سے بے نیاز اس کے دل تک زندگی کی روشنی جاتی نہیں بھول کر بھی اس کے ہونٹوں پر ہنسی آتی نہیں ایک لمحہ بھی نہیں فکر معیشت سے نجات صبح ہو یا شام ہے تاریک اس کی کائنات دیکھ اے قارون اعظم دیکھ اے سرمایہ دار نا مرادی کا مرقع بے کسی کا شاہکار گو ہے تیری ہی طرح انساں مگر مقہور ہے دیکھ اے دولت کے اندھے سانپ یہ مزدور ہے

— سیماب اکبر آبادی

میری ہولی

کاش حاصل ہو حقیقی زندگی کا ایک دن سر خوشی کا ایک لمحہ یا خوشی کا ایک دن کر دیا ہے شورش عالم نے دیوانہ مجھے ہے بساط دہر وحشت ناک ویرانہ مجھے اک نئی دنیا کی خلقت ہے مری تخئیل میں جو معاون ہو سکے انسان کی تکمیل میں اہتمام زندگی جس میں بطور خاص ہو آسماں جس کا محبت ہو زمیں اخلاص ہو کرشن کی آج یاد رفتہ محفل زندہ کرو برج و گوکل کی بجھی شمعوں کو تابندہ کرو خشکیٔ گنگ و جمن کی آبیاری کے لئے دعوتیں دو گوپیوں کو رنگ باری کے لئے از سر نو پھر مرتب ہو جہان رنگ و بو خار و خس سے پھر ہو پیدا کارخانے رنگ و بو پریم رس سے لاؤ بھر کر خوش نما پچکاریاں ہوں نئی دامان ہستی پر لطافت باریاں روح کی آواز ہم آئیں گے ساز و چنگ ہو جو پڑے انساں پہ وہ انسانیت کا رنگ ہو چاہتا ہوں یوں ہو رنگیں پیرہن اور ساریاں شست و شو سے بھی نہ زائل ہو سکیں گل کاریاں جسم کی صورت رہے دل بھی مسرت میں شریک روح آزادی بھی ہو جائے حقیقت میں شریک چاہتا ہوں گلشن کہنہ پر آ جائے شباب تنکا تنکا پھول ہو اور پتا پتا آفتاب تازگی وجہ شگفت خاطر عالم رہے میری دنیا میں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے شاعر و صناع ہو فکر و خلش سے بے نیاز خواجہ و مزدور میں باقی نہ ہو کچھ امتیاز ارتقا کے رنگ سے لبریز جھولی ہو میری انقلاب ایسا کوئی ہو لے تو ہولی ہو میری

— سیماب اکبر آبادی

جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا

جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھا مری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھا تصور کی حدوں میں بھی سمانا جن کا مشکل تھا نظر والوں نے ان جلووں کو تا حد نظر دیکھا سب اپنے دل میں اک تیر نظر محسوس کرتے ہیں مگر کوئی بتا سکتا نہیں اس نے کدھر دیکھا تعین بر طرف مقصود مجھ کو سجدہ کرنا تھا نہ ہم نے رہ گزر دیکھی نہ ہم نے سنگ در دیکھا نظر آتا نہ تھا جو گرد افکار و حوادث میں وہ ساحل آنکھ نے طوفان غم میں ڈوب کر دیکھا تمہارے سنگ در کو سنگ در میں کس طرح سمجھوں کہ جب سجدہ کیا سر کو جبین عرش پر دیکھا عجب منزل تھی اے سیمابؔ اپنی منزل ہستی نہ موقع تھا ٹھہرنے کا نہ یارائے سفر دیکھا

— سیماب اکبرآبادی