بقدر شوق اقرار وفا کیا
ہمارے شوق کی ہے انتہا کیا
دعا دل سے جو نکلے کارگر ہو
یہاں دل ہی نہیں دل سے دعا کیا
جو کہتے ہیں اب اس میں کچھ نہیں ہے
کوئی ان سے یہ پوچھے مجھ میں تھا کیا
نہ اس پر اختیار اپنا نہ اس پر
سر آغاز و فکر انتہا کیا
سلامت دامن امید سیمابؔ
محبت میں کسی کا آسرا کیا
سیماب اکبرآبادی
عشق خود مائل حجاب ہے آج
حسن مجبور اضطراب ہے آج
مے کدہ غم کدہ ہے تیرے بغیر
سرنگوں شیشۂ شراب ہے آج
متغیر ہے عالم جذبات
کون اس دل میں باریاب ہے آج
زندگی جس میں سانس لیتی تھی
وہ زمانہ خیال و خواب ہے آج
مٹ گئے دل کے ولولے سیمابؔ
ختم افسانۂ شباب ہے آج
سیماب اکبرآبادی
جگنو
ادھر آؤ اے میرے نادان بچے
کروں گا میں دو چار باتیں تمہیں سے
ہو مصروف کیوں کھیلنے میں تم ایسے
سنو تو سہی کچھ پڑھو گھر پہ جا کے
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
بچہ
میں ابا کا جانی میں اماں کا پیارا
نہیں رنج میرا کسی کو گوارا
نہ جاؤں گا پڑھنے یہ ہے کیا اشارا
میں کھیلوں گا تیرا نہیں کچھ اجارا
چمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے
جگنو
یہ پر نور چہرہ یہ آنکھیں منور
یہ گورا بدن اور کپڑے معطر
لڑکپن کے دن ہیں مگر یوں نہ ہٹ کر
نصیحت سے میری ہوا کیوں مکدر
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
بچہ
پڑی ہے ابھی عمر پڑھ لوں گا جگنو
کہ پڑھنے پہ ہر وقت ہے میرا قابو
میں کیوں جاؤں پڑھنے میں کھیلوں گا ہر سو
کہیں اور بے پر کی جا کر اڑا تو
چمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے
جگنو
نہیں پیارے بچے نہیں کھیل اچھا
کہ پڑھنے کا ہے اک یہی تو زمانہ
اگر ابتدا سے رہا شوق اس کا
تو آ جائے گا پھر بہت جلد پڑھنا
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
بچہ
پکڑ لوں گا تجھ کو جو اب تو نے چھیڑا
تو آیا بڑا علم والا کہیں کا
میں کھیلوں گا کھیلوں گا کھیلوں گا ہر جا
مجھے کھیل سے روکتا ہے پرندہ
چمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے
جگنو
نہ جاؤں گا ہرگز میں اڑ کر یہاں سے
کرو گے نہ اقرار جب تک زباں سے
نصیحت کو آئے گا کوئی کہاں سے
فرشتے نہ اتریں گے اب آسماں سے
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
بچہ
یہاں آ کے کن آفتوں میں پھنسا میں
ترے لیکچر میں ہوا مبتلا میں
کہیں اور ہی کھاؤں گا اب ہوا میں
تو جاتا نہیں تو نہ جا لے چلا میں
چمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے
جگنو
میں تیرے لئے گو اک آفت نئی ہوں
مگر واقعی رحمت اللہ کی ہوں
جہاں میں ترا رہنما ہر گھڑی ہوں
میں جگنو نہیں علم کی روشنی ہوں
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
تجھے ایک دن ہے چمکنا زمیں پر
ہنسی مجھ کو آتی ہے تیری نہیں پر
نظر ہے مری تیرے روئے حسیں پر
میں چمکوں گا اک روز تیری جبیں پر
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
ابھی سے اگر تو لکھے گا پڑھے گا
تو دنیا میں پروان جلدی چڑھے گا
یہ کب تک یوں ہی گیڑیاں تو گڑھے گا
بڑھائے گا ہمت تو آگے بڑھے گا
نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے
بچہ
جو تو علم کی روشنی ہے تو آ جا
مرے دل میں میرے جگر میں سما جا
مجھے پڑھنے لکھنے کا شیدا بنا جا
اگر اور کچھ ہے تو ہٹ جا چلا جا
چمکدار کیڑے مجھے کھیلنے دے
سیماب اکبر آبادی
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
دنیا کرے تلاش نیا جام جم کوئی
اس کی جگہ نہیں مرے جام سفال میں
آزردہ اس قدر ہوں سراب خیال سے
جی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
اہل چمن ہمیں نہ اسیروں کا طعن دیں
وہ خوش ہیں اپنے حال میں اہم اپنی چال میں
سیمابؔ اجتہاد ہے حسن طلب مرا
ترمیم چاہتا ہوں مذاق جمال میں
سیماب اکبرآبادی
ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
اے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے
طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کا
جو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے
اے برہمن اک دن بت پندار کو اپنے
توڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے
کہہ دو کہ بہار آئے تو بیکار نہ بیٹھے
دیوانہ بنے یا مجھے دیوانہ بنا دے
دیوانگیٔ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے
سیماب اکبرآبادی