اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
خیمہء خاک سے روشنی کی سواری نکلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
کیا ہوا جو ہوائیں نہیں مہرباں، اک تغیّر پہ آباد ہے یہ جہاں
بزم آغاز ہونے سے پہلے یہاں، شمع جلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
دامنِ دل ہو یا سایہ ء چشم و لب، دونوں بارش کی طرح برستے ہوں جب
ایسے عالم میں پھر بھیگ جانے کی خواہش مچلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
ابر کے سلسلے اور پیاسی زمیں ، آگ بجھتی ہے پانی سے سورج نہیں
کہساروں پہ جمتی ہوئی برف اک دن پگھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
عشق ایجاد ہم سے ہوا ہے سو ہم، اس کے رمز و کنایہ سے واقف بھی ہیں
تیرے بیمار کی یہ جو حالت ہے آخر سنبھلنی تو ہے، رُت بدلنی تو ہے
سلیم کوثر
لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی
قرض تھی یادِ رفتگاں، رات حساب لے گئی
جامِ سفال پر مری کتنی گرفت تھی مگر
آب و ہوا ئے روز و شب، خانہ خراب، لے گئی
صحبتِ ہجر میں گھری جُنبشِ چشمِ سُرمگیں
خُود ہی سوال کر گئی ،خُود ہی جواب لے گئی
تِشنہ خرامِ عشق پر ابَر کے سائے تھے مگر
عرصۂ بےگیاہ تک چشمکِ آب لے گئی
کارِ جہاں سے رُوٹھ کر پھر تری یاد کی ہوس
شاخِ نہالِ زخم سے بُوئے گُلاب لے گئی
پہلے ہوا کے زِیرو بم ہم کو قریب کر گئے
پھر ہمیں ساحلوں سے دُور، یورشِ آب لے گئی
موجۂ وقت سے نڈھال ڈُوب رہے ہیں خدّو خال
ساعتِ حیلہ جُو سلیم عہدِ شباب لے گئی
سلیم کوثر
میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا
وہ کم سُخن، سُخن آرائیوں کے بعد کُھلا
وہ میرے ساتھ ہے اور مجھ سے ہمکلام بھی ہے
یہ ایک عُمر کی تنہائیوں کے بعد کُھلا
میں خُود بھی تیرے اندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا
ترا وجود بھی پرچھائیوں کے بعد کُھلا
عجب طلسمِ خموشی تھا گھر کا سناٹا
جو بام و دَر کی شناسائیوں کے بعد کُھلا
میں آب و خاک سے مانُوس تھا، پر کیا کرتا
دَرِ قفس مری بینائیوں کے بعد کُھلا
مجھے یہ جنگ بہرحال جیتنی تھی، مگر
نیا محاذ ہی پسپائیوں کے بعد کُھلا
مجھے بھی تنگئ آفاق کا گِلہ ہے سلیم
یہ بھید مجھ پہ بھی گہرائیوں کے بعد کُھلا
سلیم کوثر
گُرو
ہمارے ڈیرے پہ آؤ صاحب
تمہیں دکھائیں
ادھورے لوگوں کی پوری دنیا
کھنکتے گھنگرو کی لَے پہ رقصاں ٹرانس جینڈر
جو اپنے سینے سے جنسی ردو بدل کے دُکھ کو لگائے اپنی سیاہ بختی سے لڑ رہے ہیں
یہ پارساؤں کی پارسائی کا راز رکھتے ہوئے مخنث
عمیق راتوں میں پلتے لمحوں کو اپنا ملبوس کر رہے ہیں
کہ روحِ کامل کے نامکمل بدن کے دکھ کو
قدیم وقتوں سے سہہ رہے ہیں
یہ سب صحیفوں میں ذکر اپنا تلاش کر کر کے تھک گئے ہیں
کسی صحیفے میں حوا آدم کی ہے کہانی
کہیں کتابوں میں ماں کی عظمت کی ہے نشانی
کہیں پڑھا تھا
"زمیں پہ اُس کا وجود ہوتا تو ایک ممتا کا روپ ہوتا "
ہمارے ڈیرے کو دیکھو صاحب
یہ ریٹا , جُولی , یہ ڈولی , گُڑیا
کہ جن کے ماتھے پہ ماں کی ممتا کا ایک بوسہ تلک نہیں ہے
میں ان کو کیسے یقیں دلاؤں کہ ان کی ممتا خدا نہیں تھی
میں ان کو کیسے بتاؤں صاحب
کہ جن صحیفوں میں باپ جنت کا در لکھا ہے ..
وہ حق ہے صاحب ...مگر حقیقت ہے کڑوا سچ ہے کہ ان کی جنت کے در پہ بچپن سے ایک تالا لگا ہوا ,,,
کہ ان کی قسمت کی کوئی کھڑکی کُھلی نہیں ہے
ہر اک پہ جالا لگا ہوا ہے !!!
عاطف جاوید عاطف
شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے
جہاں چراغ جلانے پہ ہاتھ کٹ جاتے
کلائی کاٹ کے سوئی ہے چین سے لڑکی
اگر نہ کاٹتی دو خاندان کٹ جاتے
خوشی سے پھول گئے تھے یہ بھول کرتے ہوئے
اگر اداس نہ ہوتے تو لوگ پھٹ جاتے
وہ خشک لب جو تھرکتے تو مختلف پانی
سمندروں سے بھی دریاوں میں پلٹ جاتے
خدا بدن نہیں رکھتا ورنہ یہ عاصی
جہاں بھی دیکھتے بے ساختہ لپٹ جاتے
تڑپ تڑپ کے بگاڑی ہے ہم نے لاش اپنی
تو کاٹتا تو بڑی عمدگی سے کٹ جاتے
راکب مختار