کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو
کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو
زندگی تو نے اشاروں پہ نچایا سب کو
لوگ مرہم نہیں، بس درر بڑھا دیتے ھیں
ھم نے ہنستا ھوا چہرہ ہی دکھایا سب کو
رتجگے جس کے سُلاتے تھے شہر والوں کو
اُس کے سونے نے شہر بھر میں جگایا سب کو
کم ظرفوں کو نکالا گیا مئے خانے سے
جام تو ایک ہی ساقی نے پلایا سب ک
درد بانٹے ہی نہیں ھم نے زمانے سے کبھی
روئے خلوت میں ہی خوشیوں میں بُلایا سب کو
خواب ھے پاس میرے لے گیا تعبیر کوئی
خواب میرا تھا جسے میں نے دکھایا سب کو
بھوک سے روتے بلکتے ھوئے بچوں کو رضا
لوریاں دیتے ھوئے ماں نے سُلایا سب کو
سجاد رضا