سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
اسد باجوہ
افضل شیروانی
انتظار حسین
ایم سعید
حسن شبیر
حماد ابراہیم
خواجہ اشرف
رابعہ
راجا اکرام قمر
راشد نور
ریبل
سجاد رضا
سعدیہ لطیف
سید جینٹلمین
شاکرجگن
صباگل
عروج فیاض
عون کبیر
مرزا جواد
ملک
مہرزادہ
مہہ جبین
ندیم بخاری
نگاہ بسمل
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو
کتنے بے بس ھیں یہ احساس دلایا سب کو زندگی تو نے اشاروں پہ نچایا سب کو لوگ مرہم نہیں، بس درر بڑھا دیتے ھیں ھم نے ہنستا ھوا چہرہ ہی دکھایا سب کو رتجگے جس کے سُلاتے تھے شہر والوں کو اُس کے سونے نے شہر بھر میں جگایا سب کو کم ظرفوں کو نکالا گیا مئے خانے سے جام تو ایک ہی ساقی نے پلایا سب ک درد بانٹے ہی نہیں ھم نے زمانے سے کبھی روئے خلوت میں ہی خوشیوں میں بُلایا سب کو خواب ھے پاس میرے لے گیا تعبیر کوئی خواب میرا تھا جسے میں نے دکھایا سب کو بھوک سے روتے بلکتے ھوئے بچوں کو رضا لوریاں دیتے ھوئے ماں نے سُلایا سب کو