ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے
میراجیؔ دانا تو نہیں ہے عاشق ہے سودائی ہے
صبح سویرے کون سی صورت پھلواری میں آئی ہے
ڈالی ڈالی جھوم اٹھی ہے کلی کلی لہرائی ہے
جانی پہچانی صورت کو اب تو آنکھیں ترسیں گی
نئے شہر میں جیون دیوی نیا روپ بھر لائی ہے
ایک کھلونا ٹوٹ گیا تو اور کئی مل جائیں گے
بالک یہ انہونی تجھ کو کس بیری نے سجھائی ہے
دھیان کی دھن ہے امر گیت پہچان لیا تو بولے گا
جس نے راہ سے بھٹکایا تھا وہی راہ پر لائی ہے
بیٹھے ہیں پھلواری میں دیکھیں کب کلیاں کھلتی ہیں
بھنور بھاؤ تو نہیں ہے کس نے اتنی راہ دکھائی ہے
جب دل گھبرا جاتا ہے تو آپ ہی آپ بہلتا ہے
پریم کی ریت اسے جانو پر ہونی کی چترائی ہے
امیدیں ارمان سبھی جل دے جائیں گے جانتے تھے
جان جان کے دھوکے کھائے جان کے بات بڑھائی ہے
اپنا رنگ بھلا لگتا ہے کلیاں چٹکیں پھول بنیں
پھول پھول یہ جھوم کے بولا کلیو تم کو بدھائی ہے
آبشار کے رنگ تو دیکھے لگن منڈل کیوں یاد نہیں
کس کا بیاہ رچا ہے دیکھو ڈھولک ہے شہنائی ہے
ایسے ڈولے من کا بجرا جیسے نین بیچ ہو کجرا
دل کے اندر دھوم مچی ہے جگ میں اداسی چھائی ہے
لہروں سے لہریں ملتی ہیں ساگر امڈا آتا ہے
منجدھار میں بسنے والے نے ساحل پر جوت جگائی ہے
آخری بات سنائے کوئی آخری بات سنیں کیوں ہم نے
اس دنیا میں سب سے پہلے آخری بات سنائی ہے
میراجی
تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت
اپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں
عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں
اور جو عالم تھے فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب کے
پیچھے پیچھے ہی چلا کرتا تھا
کس لیے سب کو رہ زیست پہ ہر گام بڑھانے والے
سب سے پیچھے ہی چلا کرتے ہیں
علم میں ایک ہی بنیادی کمی ہے ورنہ
علم ہر ایک زمانے میں ہر ایک شے سے ترقی پاتا
آج اقبال یہ کہتا ہے کہ عورت ہی کا شعلہ وہ جس سے یونان
حشر تک علم فلاطون سے رہے گا زندہ
آج اسکول میں کالج میں مقام اول
عورتوں کے لیے مخصوص کیے جاتے ہیں
آج انگریزی پڑھی جاتی ہے جغرافیہ تاریخ ہر اک علم یہاں
ایسے استاد سکھاتا ہے کہ جیسے ہم کو
یہی معلوم نہیں ہے کہ جو عالم تھے جو فاضل تھے ان انسانوں کا جرگہ سب سے
پیچھے پیچھے ہی بڑھا کرتا تھا
عورتیں ان سے ذرا آگے رہا کرتی تھیں
عورتیں آج بھی آگے ہی رہا کرتی ہیں
عورتیں آج بھی کہتی ہیں ہمارے گیسو
چاہے بکھرے ہوں کہ ایک جوڑے میں پابند کیے بیٹھے ہوں
دیکھنے والوں کی ناکام تمناؤں کو
ایک ہی ہاتھ کے پابند ہوا کرتے ہیں
وہی اک ہاتھ جو تلوار کو پہلو میں لیے
سب سے آگے ہی چلا کرتا ہے
اس کو کچھ علم کی پرواہ نہیں (عورت کی بھی پرواہ کیا ہے)
اس کو کچھ علم نہیں کیسے فلاطوں پل میں
اک شرر بن کے بجھا کرتا ہے
سامنے تو ہے مگر تیرا منور چہرہ
اسی جاہل کو نظر آتا ہے
جو یہ کہتا ہے کہ تیمور کی فوجیں جس وقت
اپنے دشمن پہ بڑھا کرتی تھیں
عورتیں پیچھے رہا کرتی تھیں
اور جو عالم تھے جو فاضل تھے وہ یہ سوچتے تھے
ہار کس شخص کی ہے جیت ہے کس کی چھوڑو
ہم بھی کن چھوٹی سی باتوں میں الجھ بیٹھے ہیں
چلتے چلتے مجھے تیزی سے خیال آیا ہے
تیرا یہ جوڑا جو کھل جائے بکھر جائے تو پھر کیا ہوگا
میری تاریخ کہ تیری تاریخ
پھیل کر آج پہ (اور کل پہ بھی) چھا جائے گی
سوچنے والے کو اک پل میں بتا جائے گی
عورتیں پیچھے اگر ہوں بھی تو آگے ہی رہا کرتی ہیں
اور فلاطوں کا چچا ہاتھ میں تلوار لیے آگے بڑھا کرتا ہے
لو وہ جوڑا بھی فلاطوں ہی سے کچھ کہنے لگا
اور رستے میں اسے کون ملے گا تیمور
اور وہ اس سے کہے گا کہ یہاں کیوں آئی
جا مرے پیچھے چلی جا کہ ترے پیچھے ہمیشہ ہر دم
علم یوں رینگتے ہی رینگتے بڑھتا جائے
جیسے ہر بات کے پیچھے ہر بات
رینگتے رینگتے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے
اور ہر ایک فلاطوں جو شرر بن کے چمکتا ہے وہ مٹ جاتا ہے
میراجی
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں، کائناتی نغمہ ء مبہم میں الجھا دے
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
مری ہستی ہے اک ذرہ
کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے مہرِ عالم تاب کا نشہ
ستاروں کا علمبردار کر دے گی ،مسرت میری ہستی کو
اگر پھر سے اسی بلندی سے ملا دے گی
تو میں ڈرتا ہوں۔۔۔۔ڈرتا ہوں
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کو
بھلا کر تلخیاں ساری
بنا دے دیوتاؤں سا
تو پھر میں خواب ہی بن کر گزاروں گا
زمانہ اپنی ہستی کا
میراجی