گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے
گم ہوتے گئے آپ ہی اِمکان ہمارے
مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہمارے
بکھرے ہو کہاں اے خس و خاشاک ِ تمنا
غائب ہو کدھر اے سر و سامان ہمارے
دریاؤں سے اب سوکھتا ہی جائے گا پانی
اور پھیلتے جائیں گے بیابان ہمارے
ہو گا نہیں موجود تواضح کے لیے کچھ
رک جائیں گے اب آپ ہی مہمان ہمارے
بازار ہیں اب اُن کی جگہ رونقِ ہر شہر
یوں ختم ہوئے خود ہی گلستان ہمارے
بندے بھی درآمد کیے جائیں گے کہ سارے
شیطان ہوئے جاتے ہیں اِنسان ہمارے
باہر سے ہی مضبوط نظر آتے ہیں لیکن
اندر سے یہی جسم ہیں بےجان ہمارے
معصوم ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب تک
دشمن ہیں اِن احوال سے اَنجان ہمارے
چوروں کی ظفر کوئی ضرورت نہیں باقی
مامور ہیں اب خود ہی نگہبان ہمارے
ظفراقبال