جیسے تیسے رہ جاتا ہے
سب کچھ ایسے رہ جاتا ہے
لاش ابھر آتی ہے اوپر
پانی نیچے رہ جاتا ہے
میں ہی نکل جاتا ہوں آگے
قاری پیچھے رہ جاتا ہے
کام جو وقت پہ کیا نہ جائے
رہتے رہتے رہ جاتا ہے
رہنے پر آ جائے تو وہ
کسی بہانے رہ جاتا ہے
سوچے سمجھے وہ نہ رہے تو
بھولے بھٹکے رہ جاتا ہے
تیز بہت چلنے والا بھی
آدھے رستے رہ جاتا ہے
بات وہ کیا ہے جسے ظفرؔ تو
کہتے کہتے رہ جاتا ہے
ظفراقبال
ہر طرف پھیلتی خوشبو کی حفاظت کرنا
غیر ممکن ہے ابھی تجھ سے محبت کرنا
وصل ہو گا کہ نہیں چھوڑ دیا قسمت پر
عشق میں بھی ہمیں آیا نہیں محنت کرنا
اپنے اپنے تھے اصول اور نہیں تھا ممکن
ایک کا دوسرے سے کوئی رعایت کرنا
اتنے مجبور ہیں لیکن کبھی ملنے نہ گئے
نہ ہی اس سے یہ کہا ہے کبھی زحمت کرنا
چومنا چاہتے تھے ہم اگر آنکھیں اس کی
محض مطلوب تھا اظہار عقیدت کرنا
دل کا پھیلاؤ اگر چاروں طرف ہے موجود
پھر مناسب ہے اسی دشت میں وحشت کرنا
ہم کو استاد نے پہلا یہ پڑھایا تھا سبق
کام جو سہل نظر آئے کبھی مت کرنا
ترک الفت ہی کیا ہم نے کہ مشکل تھا ظفرؔ
اک غلط سوچ کی تادیر حمایت کرنا
ظفراقبال
کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونا
اور وقفوں سے مرا غائب و حاضر ہونا
میں کسی اور زمانے کے لیے ہوں شاید
اس زمانے میں ہے مشکل مرا ظاہر ہونا
میں نہ ہونے پہ ہی خوش تھا مگر ایسے ہوا پھر
مجھ کو ناچار پڑا آپ کی خاطر ہونا
دور ہو جاؤں بھی اس باغ بدن سے لیکن
کہیں ممکن ہی نہیں ایسے مناظر ہونا
واقعی تم کو دکھائی ہی نہیں دیتا ہوں
یا ضرورت ہے تمہاری مرا منکر ہونا
راستہ آپ بنانا ہی کوئی سہل نہیں
پھر اسی راستے کا آپ مسافر ہونا
وہ مقامات مقدس وہ ترے گنبد و قوس
اور مرا ایسے نشانات کا زائر ہونا
بادلوں اور ہواؤں میں اڑا پھرتا میں
کاش ہوتا مری تقدیر میں طائر ہونا
کام نکلا ہے کچھ اتنا ہی یہ پیچیدہ ظفرؔ
جتنا آساں نظر آیا مجھے شاعر ہونا
ظفراقبال
یکسو بھی لگ رہا ہوں بکھرنے کے باوجود
پوری طرح مرا نہیں مرنے کے باوجود
اک دھوپ سی تنی ہوئی بادل کے آر پار
اک پیاس ہے رکی ہوئی جھرنے کے باوجود
اس کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہ تھی مجھے
مصروف تھا میں کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود
پہلا بھی دوسرا ہی کنارہ ہو جس طرح
حالت وہی ہے پار اترنے کے باوجود
اپنی طرف ہی رخ تھا وہاں واردات کا
الزام اس کے نام پہ دھرنے کے باوجود
حیراں ہوں مجھ میں اتنی یہ ہمت کہاں سے آئی
کر ہی گیا ہوں کام جو ڈرنے کے باوجود
ہونا پڑا نہ ہوتے ہوئے بھی مجھے یہاں
کچھ یاد رہ گیا ہوں بسرنے کے باوجود
جیسا بھی یہ سفر ہو ذرا غور کیجئے
کیسا رواں دواں ہوں ٹھہرنے کے باوجود
نکلا نہیں ہے کوئی نتیجہ یہاں ظفرؔ
کرنے کے باوجود نہ بھرنے کے باوجود
ظفراقبال
بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا
پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا
گلی میں لوگ بھی تھے میرے اس کے دشمن لوگ
وہ سب پہ ہنستا ہوا میرے دل میں آیا تھا
اس ایک دشت میں سو شہر ہو گئے آباد
جہاں کسی نے کبھی کارواں لٹایا تھا
وہ مجھ سے اپنا پتا پوچھنے کو آ نکلے
کہ جن سے میں نے خود اپنا سراغ پایا تھا
مرے وجود سے گلزار ہو کے نکلی ہے
وہ آگ جس نے ترا پیرہن جلایا تھا
مجھی کو طعنۂ غارت گری نہ دے پیارے
یہ نقش میں نے ترے ہاتھ سے مٹایا تھا
اسی نے روپ بدل کر جگا دیا آخر
جو زہر مجھ پہ کبھی نیند بن کے چھایا تھا
ظفرؔ کی خاک میں ہے کس کی حسرت تعمیر
خیال و خواب میں کس نے یہ گھر بنایا تھا
ظفراقبال
وہ ایک طرح سے اقرار کرنے آیا تھا
جو اتنی دور سے انکار کرنے آیا تھا
خوشی جو خواب میں بھی میری دسترس سے تھی دور
مجھے اسی کا سزاوار کرنے آیا تھا
یہ صاف لگتا ہے جیسی کہ اس کی آنکھیں تھیں
وہ اصل میں مجھے بیمار کرنے آیا تھا
اگر تھا اس کو مری حیثیت کا اندازہ
تو کیوں وہ اپنا خریدار کرنے آیا تھا
یہ زندگی کہ جو آساں نہیں تھی پہلے بھی
اسے کچھ اور بھی دشوار کرنے آیا تھا
اگرچہ ایک ہی سست الوجود تھا لیکن
وہ کام کوئی لگاتار کرنے آیا تھا
مرے تو بس میں کوئی چیز تھی نہ پہلے بھی
وہ مجھ کو اور بھی لاچار کرنے آیا تھا
وہ ایک ابر گراں بار تھا مگر اس دن
ذرا فضا کو ہوا دار کرنے آیا تھا
عداوتوں میں وہاں دھر لیا گیا ہوں ظفرؔ
جہاں کے لوگوں سے میں پیار کرنے آیا تھا
ظفراقبال