ظفر اقبال اردو غزل کے اُن عظیم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک مسلسل تخلیقی سفر جاری رکھا۔ 27 ستمبر 1932ء کو بہاول نگر میں پیدا ہونے والے ظفر اقبال کا تعلق بنیادی طور پر اوکاڑہ سے تھا جہاں اُن کی پرورش اور ابتدائی تعلیم ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے لاہور کے معروف فارمَن کرسچین کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم مکمل کی۔ تعلیم کے بعد انہوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا، مگر جلد ہی ان کی پہچان شاعری اور ادبی خدمات کے ذریعے قائم ہونے لگی۔ وہ اردو سائنس بورڈ کے سربراہ بھی رہے اور بطور کالم نگار بھی طویل عرصے تک اخبارات میں لکھتے رہے۔
ان کی ادبی زندگی کا اصل کمال جدید اردو غزل کے اسلوب کو نئی سمت دینا تھا۔ 1962ء میں شائع ہونے والا ان کا پہلا مجموعہ "آبِ رواں" اپنی تازہ زبان، نیا لہجہ اور فکری گہرائی کے باعث اردو ادب میں ایک نئے رجحان کی بنیاد بنا۔ روایت شکنی اور تجربہ پسندی ظفر اقبال کے فن کی پہچان بن گئی۔ انہوں نے غزل کو روایتی مضامین تک محدود نہ رہنے دیا بلکہ زندگی کے پیچیدہ سوالات، زمانے کے تضادات اور انسان کے باطنی کشمکش کو جدید علامتوں اور منفرد ترکیبوں کے ذریعے بیان کیا۔ کچھ ناقدین نے اُن کے اس انداز کو "لفظوں کا جادو" اور کچھ نے "غیر روایتی جرأت" قرار دیا، مگر یہ حقیقت مسلم ہے کہ انہوں نے غزل کی زبان اور فضا میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کی۔
اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور ہلالِ امتیاز جیسے قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی تخلیقی عمر حیران کن حد تک طویل ہے اور وہ ہر دور میں خود کو بدلتے اور اپنی شاعری میں نئے تجربات کرتے رہے۔ ظفر اقبال کی غزل محض جذبات کی نمائندگی نہیں بلکہ زمانے کی فکری دھڑکن بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔