گھر گھر تجلیاں ہیں طلب گار بھی تو ہو
موسیٰ سا کوئی طالب دیدار بھی تو ہو
دل درد ناک چاہیے لاکھوں ہیں خوبرو
عیسیٰ ہیں سیکڑوں کوئی بیمار بھی تو ہو
گر ہم نہیں تو رونق بازار عشق کیا
اے حسن خود فروش خریدار بھی تو ہو
پردے میں چاہتا ہے کہ ہنگامہ ہو بپا
اے آفتاب حشر نمودار بھی تو ہو
اتنی اداس صحبت مے واہ مے کشو
دست سبو میں شیخ کی دستار بھی تو ہو
زاہد امید رحمت حق اور ہجو مے
پہلے شراب پی کے گنہ گار بھی تو ہو
سوؤں میں آ کے دھوپ سے پاؤں اماں مگر
راضی تمہارا سایۂ دیوار بھی تو ہو
ساقی اداس کیوں نہ ہو بزم مے و سبو
مے خانہ میں امیرؔ سا مے خوار بھی تو ہو
امیر مینائی
درد پا ہوگا شکست کاسۂ سر کا جواب
غافلوں کو دے گی میری لاش ٹھوکر کا جواب
شوق سے لکھیں مرے عصیاں فرشتے رات دن
ایک رحمت اس کی ہے اس سارے دفتر کا جواب
ایک دن وہ میرے گھر ہے ایک دن وہ اس کے گھر
غیر کی قسمت بھی ہے میرے مقدر کا جواب
جب میں کہتا ہوں کہو گے کیا خدا کے سامنے
کہتے ہیں تم کو بتا دیں روز محشر کا جواب
نرم دل سے نرم دل ہیں سخت گو سے سخت گو
شیشے کا شیشہ یہاں پتھر ہے پتھر کا جواب
اس نے خط بھیجا جو مجھ کو ڈاک پر ڈاکہ پڑا
یار کیا کرتا نہ تھا میرے مقدر کا جواب
منہ چڑھاؤ اور کا تیوری چڑھاؤ اور پر
آئینہ ہوں منہ پہ دوں گا میں برابر کا جواب
پھینک دو خط لکھ کے قاصد سے جو تم بیزار ہو
اڑ کے آئے گا جو ہے میرے مقدر کا جواب
منہ کی کھائی سیکڑوں بال آئنہ میں پڑ گئے
لے کے آیا تھا تری زلف معنبر جو جواب
امیر مینائی
رند خراب تیرا وہ مے پیے ہوئے ہے
مدت سے جان جس پر زاہد دیے ہوئے ہے
کس شان سے وہ مے کش آتا ہے مے کدہ میں
قاضی سبو صراحی مفتی لیے ہوئے ہے
آتا نہیں نظر کچھ گو سامنا ہے اس کا
کیا بیچ میں تحیر پردہ کیے ہوئے ہے
ہو کون بخیہ گر سے زخمی کا تیرے ساعی
رشتہ کھنچا ہے سوزن منہ کو سیے ہوئے ہے
پیر مغاں وہ کاکل مرشد ہے بادہ خوارو
جمشید بھی پیالہ اس کا پیے ہوئے ہے
حرمت میں دخت رز کی اصرار ہے جو اتنا
یہ بات کیا ہے رند و واعظ پیے ہوئے ہے
رحم اب امیرؔ پر بھی لازم ہے یار تجھ کو
کب سے ڈھئی وہ تیرے در پر دیے ہوئے ہے
امیر مینائی
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے
نہ گل ہیں نہ غنچے نہ بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذر خزاں کیسے کیسے
ستاروں کی دیکھو بہار آنکھ اٹھا کر
کھلاتا ہے پھول آسماں کیسے کیسے
کڑے ان کے تیور جو مقتل میں دیکھے
لیے ناز نے امتحاں کیسے کیسے
یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے
وہ صورت نہ آنکھوں میں اب ہے نہ دل میں
مکیں سے ہیں خالی مکاں کیسے کیسے
ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے
جہاں نام آتا ہے ان کا زباں پر
تو لیتی ہے بوسے زباں کیسے کیسے
ہر اک دل پہ ہیں داغ ناکامیوں کے
نشاں دے گیا بے نشاں کیسے کیسے
بہار آ کے قدرت کی گلشن میں دیکھو
کھلاتا ہے گل باغباں کیسے کیسے
اٹھائے ہیں مجنوں نے لیلہ کی خاطر
شتر غمزۂ سار باں کیسے کیسے
خوش اقبال کیا سرزمین سخن ہے
ملے ہیں اسے باغباں کیسے کیسے
جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے
شب وصل حل ہوں گے کیا کیا معمے
عیاں ہوں گے راز نہاں کیسے کیسے
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے
بنا کر دکھائے مرے درد دل نے
تہہ آسماں آسماں کیسے کیسے
امیرؔ اب مدینے کو تو بھی رواں ہو
چلے جاتے ہیں کارواں کیسے کیسے
امیر مینائی