بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس
اپنا ہے بے ضرر سا شغف دیکھتے ہیں بس
وہ جن کو مانگنا بھی پڑے اور لوگ ہیں
ہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس
گھڑیاں تو بک گئی تھیں برے وقت میں تمام
اب عادتاً قمیض کے کف دیکھتے ہیں بس
اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہم
جوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس
مجھ کو بہ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیر
ایسے مریض شاہ نجف دیکھتے ہیں بس
تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائنات
اس سے پرے تو اہل شرف دیکھتے ہیں بس
کیوں پوچھتے ہیں خود کو کہاں دیکھتے ہیں کل
خاکی ہیں خود کو خاک میں لف دیکھتے ہیں بس
عمیر نجمی
کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے
سیڑھیاں آتی رہیں سانپ کا خانہ نہ پڑے
دیکھ معمار پرندے بھی رہیں گھر بھی بنے
نقشہ ایسا ہو کوئی پیڑ گرانا نہ پڑے
میرے ہونٹوں پہ کسی لمس کی خواہش ہے شدید
ایسا کچھ کر مجھے سگریٹ کو جلانا نہ پڑے
اس تعلق سے نکلنے کا کوئی راستہ دے
اس پہاڑی پہ بھی بارود لگانا نہ پڑے
نم کی ترسیل سے آنکھوں کی حرارت کم ہو
سرد خانوں میں کوئی خواب پرانا نہ پڑے
ربط کی خیر ہے بس تیری انا بچ جائے
اس طرح جا کہ تجھے لوٹ کے آنا نہ پڑے
ہجر ایسا ہو کہ چہرے پہ نظر آ جائے
زخم ایسا ہو کہ دکھ جائے دکھانا نہ پڑے
عمیر نجمی
جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا
یہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گا
میں دشت ہوں یہ مغالطہ ہے نہ شاعرانہ مبالغہ ہے
مرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنے گا
ہمارا لاشہ بہاؤ ورنہ لحد مقدس مزار ہوگی
یہ سرخ کرتا جلاؤ ورنہ بغاوتوں کا علم بنے گا
تو کیوں نہ ہم پانچ سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل
مری چھٹی حس بتا رہی ہے یہ رشتہ ٹوٹے گا غم بنے گا
مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پن قدرتی ہے سو اعتراض کیسا
شدید نم خاک سے جو پیکر بنے گا یہ طے ہے خم بنے گا
سنا ہوا ہے جہاں میں بے کار کچھ نہیں ہے سو جی رہے ہیں
بنا ہوا ہے یقیں کہ اس رائیگانی سے کچھ اہم بنے گا
کہ شاہزادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی اس پر متفق ہیں
یہ جوں ہی حاکم بنا محل کا وسیع رقبہ حرم بنے گا
میں ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپنا
صدا کے وقفے نکال اس کو شروع سے سن ردھم بنے گا
سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو وہ شعبدہ باز
پلٹنے والوں سے کہہ رہا تھا رکو خدا کی قسم بنے گا
عمیر نجمی
ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے
میں نے بھی مل کے منہ پہ کہا دکھ ہوا مجھے
میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہے
لیکن وہ خوش ہوا تو بڑا دکھ ہوا مجھے
سسی کی داستان سنی تھی گذشتہ شب
میرے بلوچ دوست ادا دکھ ہوا مجھے
اس کے دئے دکھوں پہ الگ غم زدہ تھا میں
اور انتقام لے کے جدا دکھ ہوا مجھے
ہر تازہ دکھ پہ دوست کا پرسہ گھسا پٹا
بس یار جو خدا کی رضا دکھ ہوا مجھے
چہرہ تأثرات سے عاری ہے اس کو چھوڑ
میرا یقین کر بہ خدا دکھ ہوا مجھے
تب منکشف ہوا کہ مجھے اس سے عشق ہے
جب اس کے دکھ پہ اس سے سوا دکھ ہوا مجھے
عمیر نجمی