اردو ادب اور بھارتی فلم نگری کا وہ شاعر جس نے لفظوں کو صرف جذبات نہیں، شعور بھی دیا
ساحر لدھیانوی جن کا اصل نام عبدالحئی تھا، 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے، بچپن میں ہی والدین کی علیحدگی نے ان کے مزاج میں ایک گہری اداسی اور بغاوت پیدا کر دی، گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی مگر بائیں بازو کے نظریات کے باعث کالج سے نکال دیے گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کچھ عرصہ لاہور میں رہے، مگر نظریاتی اختلافات اور آزادی اظہار کے خوف کے باعث جلد ہی 1949 میں ممبئی بھارت واپس چلے گئے، جہاں انہوں نے فلمی دنیا میں بطور نغمہ نگار اپنی شناخت قائم کی،
اُن کی پہلی کتاب "تلخیاں" نے انہیں اردو شاعری کے روشن ستاروں میں شامل کر دیا۔ ساحر کی شاعری میں محبت کے ساتھ سماجی ناانصافی، طبقاتی فرق اور امنِ عالم کی تڑپ نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ نہ صرف حساس شاعر تھے بلکہ خوددار انسان بھی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے فلم پروڈیوسروں سے رائلٹی کا حق لینے کی روایت ڈالی، جو آج تک جاری ہے۔ مگر انہوں نے زندگی بھر کبھی کسی ایوارڈ تقریب میں شرکت نہیں کی
ساحر زندگی بھر تنہا رہے، اگرچہ امرتا پریتم سے ان کی محبت کی کہانی ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ جب ساحر اور امرتا ایک دوسرے سے ملنے لگے، تو دونوں کے درمیان گفتگو سے زیادہ خاموش لمحے ہوتے تھے۔ ساحر اکثر امرتا کے گھر آتے، لمبے وقت تک چپ چاپ بیٹھے رہتے، سگریٹ پیتے، راکھ دان میں بجھا دیتے اور چلے جاتے۔ امرتا ان کے جانے کے بعد انہی سگریٹوں کے ٹکڑوں کو سنبھال کر رکھ لیتی تھیں۔ بعد میں جب وہ اکیلی ہوتیں تو انہی سگریٹوں کے بُجھنے والے سِرے کو جلائے بغیر ہونٹوں سے لگا لیتیں، امرتا نے ان باتوں کا اعتراف اپنی کتاب رسید میں کچھ ان لفظوں سے کیا کہ ساحر ان کی زندگی کا وہ حصہ تھے جن سے وہ لفظوں سے نہیں، خاموشیوں سے بات کرتی تھیں۔
وہ شراب سے نفرت کرتے تھے مگر سگریٹ ہمیشہ اُن کے ہونٹوں سے جڑا رہتا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ راتوں کو اکثر قبرستان میں جا کر اپنے دوستوں سے زندگی اور خاموشی پر گفتگو کیا کرتے تھے۔
25اکتوبر 1980 کو ممبئی میں اُن کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا، مگر ان کی وصیت تھی کہ میری قبر پر کوئی کتبہ نہ لگایا جائے، میری پہچان میری شاعری ہے۔"