جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں
دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں
آشوب جدائی کیا کہیے ان ہونی باتیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجالی راتیں ہوتی ہیں
جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں
یاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور دل سے باتیں ہوتی ہیں
گھر گھر کے بادل آتے ہیں اور بے برسے کھل جاتے ہیں
امیدوں کی جھوٹی دنیا میں سوکھی برساتیں ہوتی ہیں
امید کا سورج ڈوبا ہے آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہے
دنیائے فراق میں دن کیسا راتیں ہی راتیں ہوتی ہیں
طے کرنا ہیں جھگڑے جینے کے جس طرح بنے کہتے سنتے
بہروں سے بھی پالا پڑتا ہے گونگوں سے بھی باتیں ہوتی ہیں
آنکھوں میں کہاں رس کی بوندیں کچھ ہے تو لہو کی لالی ہے
اس بدلی ہوئی رت میں اب تو خونیں برساتیں ہوتی ہیں
قسمت جاگے تو ہم سوئیں قسمت سوئے تو ہم جاگیں
دونوں ہی کو نیند آئے جس میں کب ایسی راتیں ہوتی ہیں
جو کان لگا کر سنتے ہیں کیا جانیں رموز محبت کے
اب ہونٹ نہیں ہلنے پاتے اور پہروں باتیں ہوتی ہیں
جو ناز ہے وہ اپناتا ہے جو غمزہ ہے وہ لبھاتا ہے
ان رنگ برنگی پردوں میں گھاتوں پر گھاتیں ہوتی ہیں
ہنسنے میں جو آنسو آتے ہیں نیرنگ جہاں بتلاتے ہیں
ہر روز جنازے جاتے ہیں ہر روز براتیں ہوتی ہیں
جو کچھ بھی خوشی سے ہوتا ہے یہ دل کا بوجھ نہ بن جائے
پیمان وفا بھی رہنے دو سب جھوٹی باتیں ہوتی ہیں
جب تک ہے دلوں میں سچائی سب ناز و نیاز وہیں تک ہیں
جب خود غرضی آ جاتی ہے جل ہوتے ہیں گھاتیں ہوتی ہیں
ہمت کس کی ہے جو پوچھے یہ آرزوئے سودائی سے
کیوں صاحب آخر اکیلے میں یہ کس سے باتیں ہوتی ہیں
آرزو لکھنوی
پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی
آنسو میں کوندتی ہوئی بجلی جھلک گئی
کب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئے
پلکیں جھکیں پپوٹے تنے آنکھ تھک گئی
کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا
لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی
آنسو رکے تھے آنکھ میں دھڑکن کا ہو برا
ایسی تکان دی کی پیالی چھلک گئی
میری سنک بھی بڑھتی ہے ان کی ہنسی کے ساتھ
چٹکی کلی کہ پاؤں کی بیڑی کھڑک گئی
آرزو لکھنوی
نہ کوئی جلوتی نہ کوئی خلوتی نہ کوئی خاص تھا نہ کوئی عام تھا
نہ کوئی حسن تھا نہ کوئی عشق تھا نہ یہی نام تھا نہ وہی نام تھا
نہ کوئی تھا مکیں نہ کوئی تھا مکاں نہ کوئی تھی زمیں نہ کوئی تھا زماں
نہ کوئی شرق تھا نہ کوئی غرب تھا نہ دم صبح تھا نہ سر شام تھا
ازل لایزل ابد بے بدل جو بنے آج کل افق صد عمل
نہ کہیں تھے خفی نہ کہیں تھے جلی نہ کوئی تھا نشاں نہ کوئی نام تھا
طلب مدعا ہوس ناروا جو کبھی کچھ کہا وہ ہوئے بے مزہ
وہ بجائے جزا سخن ناسترا شجر حرص کا ثمر خام تھا
جو لگے آگ بھی تو نہ ہو ضو فشاں جو بجھے شعلہ بھی تو نہ اٹھے دھواں
نہ گلہ ہجر کا نہ صلہ عشق کا یہ وہی حکم تھا جو مرے نام تھا
جو بجھی شمع دل تو بڑھی روشنی جو پیا زہر غم تو بڑھی زندگی
یہ تو ہی اب بتا ذرا منصفی یہ ترا کام تھا کہ مرا کام تھا
سخن آرزوؔ چمن آرزو ختن آرزو عدن آرزو
یہ در بے صدف قمر با شرف نہ تہ خانہ تھا نہ سر بام تھا
آرزو لکھنوی