مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے
تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے
مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دل سخت جان کو مسلتے مسلتے
بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے
ارادہ تھا ترک محبت کا لیکن فریب تبسم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
بس اب صبر کر رہرو راہ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
ادھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے
وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے
قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دئے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
قمرجلالوی
مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے
کہ قفس میں تنگ آ کر مرے اور ہیں ارادے
مرے بعد گر کے بجلی نہ قفس میں دل دکھا دے
مجھے قید کرنے والے مرا آشیاں جلا دے
میرا منہ کفن سے کھولا مجھے دیکھ کر وہ بولے
یہ نیا لباس کیوں ہے یہ کہاں ے ہیں ارادے
میں قفس میں مطمئن ہوں کہ سمجھ لیا ہے میں نے
یہ چمن نہیں کہ بجلی مرا آشیاں جلا دے
مجھے پھول سے زیادہ ہے قفس میں یادِ شبنم
جو چمن میں چار آنسو مِرے نام پر بہا دے
نہیں ہم ہی جب چمن میں تو چمن سے پھر غرض کیا
کوئی پھول توڑ ڈالے کوئی آشیاں جلا دے
مری زندگی ہی کیا ہے میں چراغِ رہگزر ہوں
جسے اک ہوا کا جھونکا ابھی آئے ابھی بجھا دے
وہ ہر اک سے پوچھتے ہیں کہ فدا ہے کیوں زمانہ
انہیں حسن کی خبر کیا کوئی آئینہ دکھا دے
تجھے خود خبر ہے ظالم کہ جہانِ رنگ و بو میں
ترے حسن کے ہیں چرچے مرے عِشق کو دعا دے
شبِ ہجر بات جب ہے کہ قمر کو وہ نالے
کوئی توڑ دے ستارے کوئی آسماں ہلا دے
قمرجلالوی
تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
ادھر تو کھائے جاتا ہے ادھر وہ کھائے جاتے ہیں
چمن والوں سے جا کر اے نسیم صبح کہہ دینا
اسیران قفس کے آج پر کٹوائے جاتے ہیں
کہیں بیڑی اٹکتی ہے کہیں زنجیر الجھتی ہے
بڑی مشکل سے دیوانے ترے دفنائے جاتے ہیں
انہیں غیروں کے گھر دیکھا ہے اور انکار ہے ان کو
میں باتیں پی رہا ہوں اور وہ قسمیں کھائے جاتے ہیں
خدا محفوظ رکھے نالہ ہائے شام فرقت سے
زمیں بھی کانپتی ہے آسماں تھرائے جاتے ہیں
کوئی دم اشک تھمتے ہی نہیں ایسا بھی کیا رونا
قمرؔ دو چار دن کی بات ہے وہ آئے جاتے ہیں
قمرجلالوی
عہدِ نارسائی میں، خوابِ زندگی لے کر
دور تک بھٹکتے تھے
جانتے تو تم بھی تھے!
راکھ راکھ ہو کر بھی، خاک خاک ہو کر بھی
ہاتھ کچھ نہیں آتا
خواب کی مسافت ہے، ہاتھ خالی رہتے ہیں
مانتے تو تم بھی تھے!
اور باوجود اس کے نیند کو لٹا کر بھی
چین کو گنوا کر بھی،
ہر شبِ عبادت میں، زار زار اکھیوں کے
اشک رکھ ہتھیلی میں،
ہچکیوں کے پھندے میں، میرا نام لے لے کر،
مجھ کو اپنے مولا سے
مانگتے تو تم بھی تھے!
عشق کے عقیدے میں، فہم کیا؟ فراست کیا؟
کارِ عقل کیا معنی؟
عشق کے مخالف گر لاکھ ہی دلیلیں ہوں
جس قدر حوالے ہوں، مستند نہیں ہوتے
مانتے تو تم بھی تھے!
اور ساری دنیا سے، پھر چھڑا کے دامن کو
میری ذات میں آ کر، خود کو سونپ دینے کا
سوچتے تو تم بھی تھے!
اب کی بات چھوڑو تم۔۔
اب میں کچھ نہیں کہتا
کچھ نہیں کہوں گا میں،
اب فقط سہوں گا میں،
کچھ گلہ نہیں تم سے،
یاد بس دلایا ہے
اس طرح سے ہوتا تھا
عہدِ نارسائی میں
اب میں کچھ نہیں کہتا۔۔۔
زین شکیل